یومِ عاشورہ کے اعمال

یومِ عاشورہ کے اعمال

یومِ عاشورہ کے اعمال
از: محمد انصار احمد نوریؔ القادری ،رکن امام احمدرضامومنٹ علماء بورڈ و امام مسجد الحسینیہ ،ڈی جے ہلی بنگلور
عاشورہ کے دن روزہ رکھنا سنت ہے۔ اور بہت فضیلت رکھتا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ جب تشریف لے گئے تو یہودیوں کو دیکھا کہ وہ عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہیں آپ ﷺ نے ان سے فرمایا یہ کیسا دن ہے کہ جس میں تم روزہ رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا یہ وہ عظمت والا دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو نجات دی اور فرعون کو اس کی قوم کے ساتھ ڈبو یا۔ تو موسیٰ علیہ السلام نے اس کے شکر یہ میں روزہ رکھا ۔ہم بھی رکھتے ہیں۔ تو رسول اکر ﷺ نے فرمایا موسیٰ علیہ السلام کے تم سے زیادہ حق دار ہیں۔ تو عاشورہ کا روزہ رسول اکرم ﷺ نے بھی رکھا اور اس روزہ کا حکم بھی فرمایا ۔(بخاری ۲۶۸ جلد ا ، مسلم صفحہ ۳۵۹ جلد ۱)
اور حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ عاشورہ کے روزہ کو پچھلے سال بھر کے گناہ کا کفارہ بنا دے ( مسلم ۔مشکوٰۃ صفحہ ۱۷۹)حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی کہ جب رسول اکرم ﷺ نے عاشورہ کے دن روزہ رکھا اور روزہ رکھنے کا حکم فرمایا تو صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! یہ وہ دن ہے کہ جس کی یہود اور عیسائی تعظیم کرتے ہیں تو رسول اکرم ﷺ نے فرمایا اگر میں سال آئیندہ دنیا میں باقی رہا تو نویں محرم کا بھی روزہ رکھونگا (مشکوٰۃ صفحہ ۱۷۹) اسی لئے فقہائے کرام فرماتے ہیں سنت یہ ہے کہ محرم کی نویں تاریخ ، اور دسویں تاریخ کو روزہ رکھے۔اور سرکار اقدس ﷺ ارشاد فرماتے ہیں جو شخص عاشورہ کے دن چار رکعتیں اس طرح پڑھتے کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد قُلْ ھُوَ اللّٰہ اَحَدپوری سورہ گیارہ مرتبہ پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کے پچاس برس کے گناہ معاف فردے گا اور اس کے لئے نور کا منبر بنائے گا(نزہۃالمجالس۱۸۱ جلد ۱)
حضرت شیخ عبد الرحمٰن صفوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ مصر میں ایک شخص رہتا تھا جس کے پاس صرف ایک کپڑا تھا جو اس کے بدن پر تھا اس نے عاشورے کے دن حضرت عمر بن العاصؓ کی مسجد میں فجر کی نماز پڑھی ۔ وہاں کا دستور یہ تھا کہ عورتیں عاشورہ کے دن اس مسجد میں دعا مانگنے کے لئے جایا کرتی تھیں ایک عورت نے اس شخص سے کہا اللہ کے نام مجھے کچھ میرے بال بچوں کے لئے دیجئے ۔ اس شخص نے کہا اچھا میرے ساتھ چلو ۔ گھر پہونچ کر اس نے بدن سے اپنے کپڑا اتار ا اور دروازے کی درار سے اس عورت کو دے دیا عو رت نے اس کو دعا دی خدا تعالیٰ تمہیں جنت کا حلّے پہنائے گا۔
مجالسِ محرم کے فوائد:۔
مجالس محر م سے کئی فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ اول یہ کہ حدیث شریف میں ہے صالحین کے ذکر کے وقت رحمت الٰہی کا نزول ہوتا ہے اور خلفائے راشدین و امامین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی سنت ہے ماہ محرم کے پہلے دہا نے کے (پہلے دس دنوں میں )محفل منعقد کر نا اور واقعات کربلا پیش کرنا جائز ہے جب کہ صحیح واقعات بیان کئے جائیں کیونکہ ان واقعات میں صبر تحمل اور رضا و تسلیم کا ایک مکمل درس ہے اور پابندی احکام شریعت اور اتباع سنت کا زبر دست عملی ثبوت ہے کہ امام حسین رضی اللہ عنہ نے دین حق کی حفاظت میں تمام عزیزوں اور قریبوں اور رفیقوں اور خود اپنے کو خدا کی راہ میں قربان کیا اور جزع و فزع کا نام تک بھی نہیں لیا ۔ مگر اس مجلس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بھی ذکر خیر ہونا چاہئے تا کہ اہل سنت اور شیعوں میں فرق ہو جائے۔قرآن خوانی،فاتحہ خوانی ،سبیل،محافل ،شہداء کربلاوغیرہ کا اہتمام کریں۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply