یومِ عاشورہ کے اعمال

یومِ عاشورہ کے اعمال

یومِ عاشورہ کے اعمال
از: محمد انصار احمد نوریؔ القادری ،رکن امام احمدرضامومنٹ علماء بورڈ و امام مسجد الحسینیہ ،ڈی جے ہلی بنگلور
عاشورہ کے دن روزہ رکھنا سنت ہے۔ اور بہت فضیلت رکھتا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ جب تشریف لے گئے تو یہودیوں کو دیکھا کہ وہ عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہیں آپ ﷺ نے ان سے فرمایا یہ کیسا دن ہے کہ جس میں تم روزہ رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا یہ وہ عظمت والا دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو نجات دی اور فرعون کو اس کی قوم کے ساتھ ڈبو یا۔ تو موسیٰ علیہ السلام نے اس کے شکر یہ میں روزہ رکھا ۔ہم بھی رکھتے ہیں۔ تو رسول اکر ﷺ نے فرمایا موسیٰ علیہ السلام کے تم سے زیادہ حق دار ہیں۔ تو عاشورہ کا روزہ رسول اکرم ﷺ نے بھی رکھا اور اس روزہ کا حکم بھی فرمایا ۔(بخاری ۲۶۸ جلد ا ، مسلم صفحہ ۳۵۹ جلد ۱)
اور حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ عاشورہ کے روزہ کو پچھلے سال بھر کے گناہ کا کفارہ بنا دے ( مسلم ۔مشکوٰۃ صفحہ ۱۷۹)حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی کہ جب رسول اکرم ﷺ نے عاشورہ کے دن روزہ رکھا اور روزہ رکھنے کا حکم فرمایا تو صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! یہ وہ دن ہے کہ جس کی یہود اور عیسائی تعظیم کرتے ہیں تو رسول اکرم ﷺ نے فرمایا اگر میں سال آئیندہ دنیا میں باقی رہا تو نویں محرم کا بھی روزہ رکھونگا (مشکوٰۃ صفحہ ۱۷۹) اسی لئے فقہائے کرام فرماتے ہیں سنت یہ ہے کہ محرم کی نویں تاریخ ، اور دسویں تاریخ کو روزہ رکھے۔اور سرکار اقدس ﷺ ارشاد فرماتے ہیں جو شخص عاشورہ کے دن چار رکعتیں اس طرح پڑھتے کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد قُلْ ھُوَ اللّٰہ اَحَدپوری سورہ گیارہ مرتبہ پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کے پچاس برس کے گناہ معاف فردے گا اور اس کے لئے نور کا منبر بنائے گا(نزہۃالمجالس۱۸۱ جلد ۱)
حضرت شیخ عبد الرحمٰن صفوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ مصر میں ایک شخص رہتا تھا جس کے پاس صرف ایک کپڑا تھا جو اس کے بدن پر تھا اس نے عاشورے کے دن حضرت عمر بن العاصؓ کی مسجد میں فجر کی نماز پڑھی ۔ وہاں کا دستور یہ تھا کہ عورتیں عاشورہ کے دن اس مسجد میں دعا مانگنے کے لئے جایا کرتی تھیں ایک عورت نے اس شخص سے کہا اللہ کے نام مجھے کچھ میرے بال بچوں کے لئے دیجئے ۔ اس شخص نے کہا اچھا میرے ساتھ چلو ۔ گھر پہونچ کر اس نے بدن سے اپنے کپڑا اتار ا اور دروازے کی درار سے اس عورت کو دے دیا عو رت نے اس کو دعا دی خدا تعالیٰ تمہیں جنت کا حلّے پہنائے گا۔
مجالسِ محرم کے فوائد:۔
مجالس محر م سے کئی فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ اول یہ کہ حدیث شریف میں ہے صالحین کے ذکر کے وقت رحمت الٰہی کا نزول ہوتا ہے اور خلفائے راشدین و امامین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی سنت ہے ماہ محرم کے پہلے دہا نے کے (پہلے دس دنوں میں )محفل منعقد کر نا اور واقعات کربلا پیش کرنا جائز ہے جب کہ صحیح واقعات بیان کئے جائیں کیونکہ ان واقعات میں صبر تحمل اور رضا و تسلیم کا ایک مکمل درس ہے اور پابندی احکام شریعت اور اتباع سنت کا زبر دست عملی ثبوت ہے کہ امام حسین رضی اللہ عنہ نے دین حق کی حفاظت میں تمام عزیزوں اور قریبوں اور رفیقوں اور خود اپنے کو خدا کی راہ میں قربان کیا اور جزع و فزع کا نام تک بھی نہیں لیا ۔ مگر اس مجلس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بھی ذکر خیر ہونا چاہئے تا کہ اہل سنت اور شیعوں میں فرق ہو جائے۔قرآن خوانی،فاتحہ خوانی ،سبیل،محافل ،شہداء کربلاوغیرہ کا اہتمام کریں۔

واقعۂ کربلا: اسلام کے لیے فکروعمل کی جولانی چاہتا ہے حسینیت پیام صبح ہے ’’ غازہ روئے سحر شامِ غریباں ہوجائے

واقعۂ کربلا: اسلام کے لیے فکروعمل کی جولانی چاہتا ہے
حسینیت پیام صبح ہے ’’ غازہ روئے سحر شامِ غریباں ہوجائے‘‘
غلام مصطفی رضوی؛ نوری مشن مالیگاؤں وامام احمدرضا مومنٹ بورڈ ممبر، بنگلور

تاریخِ انسانی میں اہم واقعات کی یاد تازہ کی جاتی ہے۔ انھیں اگلی نسلوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ یادوں کے سہارے مستقبل کی تعمیر کی جاتی ہے۔ انھیں گلشنِ حیات میں ترو تازہ رکھنے کے لیے نسلاً بعد نسلٍ منتقل کیا جاتا ہے۔ وہ کیسی یادیں ہیں جو اَن مٹ بن جاتی ہیں؟ وہ کیسے واقعات ہیں جنھیں نہ تاریخ فراموش کرسکی؛ نہ مذہبی اقدار نے بھُلایا!ان کی حسی اہمیت اور دینی افادیت کو گردشِ دوراں بے نشاں نہ سکی۔واقعۂ کربلا ایسا ہی ہے۔ ہر عہد میں اس سے ملنے والے پیغام کی افادیت رہی ہے۔ ہر دور میں یہ درسِ عمل رہا ہے۔

امتحان ایک فطری ضرورت: حکمتِ الٰہیہ رہی ہے کہ منصبِ بلند کے حامل بڑے امتحانات سے گزرے۔ دورِ ابتلا وآزمائش میں ثابت قدمی وقار کی بلندی کا سبب ہوئی۔ یہی کچھ نواسۂ رسول؛ امام حسین وان کے رفقا کے ساتھ ہوا۔ ان کا امتحان اسلام کی حیاتِ تازہ کا باعث بنا۔ امتحان وآزمائش کی منازل سے سلامت گزرنے والوں نے ریگ زارِ کربلا میں جو تاریخ لکھی وہ اسلام کا نقشِ جمیل بن گئی۔نقوشِ ریگ لمحاتی ہوتے ہیں، دھیرے دھیرے معدوم ہو جاتے ہیں۔ لیکن کربلا کا نقش ایسا نمایاں ہے کہ گردشِ ایام و حوادثِ روزگار دُھندلا نہ سکے۔

خیالات کی بے راہ روی: مانی ہوئی بات ہے کہ زمانی حالات انسان کو مرعوب کر دیتے ہیں۔ آج جو فیصلے لیے جاتے ہیں ضروری نہیں کہ کل اسی کو قبول کیا جائے۔ فکر وخیالات میں نشیب وفراز آتے رہتے ہیں۔ ہوا و ہوس جب غالب آ جائے تو خیالات کی زمیں بنجر ہونا بعید نہیں۔یہی کچھ یزید کی بے راہ روی کا سبب بنا۔ یزید کے سامنے دو نظام تھے: [۱]اسلامی ماڈل [۲]آمرانہ ماڈل۔۔۔ اسلامی ماڈل نظامِ قدرت کی پابندیوں سے آراستہ تھا، جس میں حقوق کی سلامتی یقینی اور خدائی قوانین کی اطاعت لازمی تھی۔ نشۂ اقتدار و بے راہ روی کے بطن سے نکلی سوچ اسلامی ماڈل کے قبول میں مانع رہی۔فرماں روائی کے سپنے ایسے بسے کہ آمرانہ ماڈل قبول کیا گیا۔ آمریت کی فکر قیصر وکسریٰ کے ظالمانہ طرزِ حکومت سے ملی تھی، اس بے راہ روی نے عقل وسوچ پر پردہ ڈال دیا۔ حق کی راہ بے جا خواہشات کی تکمیل میں رُکاوٹ تھی۔ پھر یہ کہ حسین اعظم سے دعویِ محبت اور دوسری طرف صحابہ کی مقدس جماعت سے بغض، افسوس یہ یہودی فکر کے شکار ہیں بقولِ رضاؔ ؂

یہودوں کی سیرت مجوسوں کی صورت
قصیر المحاسن طویل الشوارب
علی سے محبت، عمر سے عداوت
کہیں بھی ہوئے جمع نور و غواہب

شریعت پر استقامت:اسلامی قوانین حتمی ہیں۔ سائنسی کلیات بدلتے رہتے ہیں۔ عقلی نظریات میں تغیرات کا وقوع باعثِ تعجب نہیں۔ اسلام کے دینِ کامل ہونے کا واضح ثبوت اس کے قوانین کا تبدیلی سے مبرّا ہونا ہے۔یزید کے خلافِ شریعت محرکات کے سدِ باب کے لیے امام حسین و ان کے رفقاکی شہادت یقینی طور پر شریعتِ اسلامی کے لیے ’’دین پناہ‘‘ اور ’’رول ماڈل‘‘ ہے، جس سے شریعت پر کسی بھی دور میں ہونے والے حملوں کے تدارک میں واقعۂ کربلا درسِ عمل ہے، دینی اصولوں کی پاس داری کے لیے استقامت کا پیام ہے۔

استبداد کے خلاف عزم ویقیں: واقعاتِ کربلا نے ہر دور میں ظلم کے مقابل مظلوم کی حمایت کی ہے۔ ان سے جاں فروشی و قربانی کا عزمِ تازہ و حوصلۂ نو ملتا ہے۔واقعۂ کربلا یقینِ کامل کے ہزاروں چراغ طاقِ دل پر روشن کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ یزیدیت کی صدیوں محنت کے بعد بھی حسینی سوچ وفکر ہی کامیاب ہے، اور شریعت کے اصولوں پر گامزن بھی۔ جب کہ تمام وہ اصول وپیمانے جو مفاد و مصلحت کے سانچے میں ڈھل کر سامنے آئے ان کا آخری نتیجہ زوال ہے۔ بڑی مملکتوں کا انجام دُنیا نے دیکھا ہے۔ آج جو سُپر پاورز ہیں کل انھیں زوال سے دوچار ہونا پڑ سکتا ہے۔ نظریاتی تخریب کاری کے تمام ساماں، مادی تعیش کے تمام ذرائع اور جوروستم کے تمام حربے شہادتِ حسینی کے عزم ویقیں سے پُر درسِ عمل کے مقابل بالآخر ناکام ہوں گے ۔ استبداد کی کوکھ سے اُبھرنے والا نظام ممکن العمل نہیں ہے۔ وہی نظام لایقِ عمل ہے جس میں حفظِ شریعت اور افکارِ اسلامی کی بقا وسا لمیت ملحوظ ہو۔
مصالحت یا حق پسندی: امام حسین کا یزید کی اطاعت سے انکار مضبوط بنیادوں پر تھا۔ یزید کی حمایت ظلم کی تائید تھی۔ یزید کی تائید خلافِ شریعت معاملات میں یزیدی فکر کے لیے عزم وحوصلہ کا سبب بنتی۔ مانی ہوئی بات ہے کہ امام حسین نے یزید کی مخالفت سے حق پسندی کا اصولی ضابطہ دُنیا کو عطا کیا۔ شریعت کے مقابل اُٹھنے والے تمام اقدامات کی حوصل شکنی کی۔یہی اصل فائدہ ہے تعلیماتِ حسینی پر عمل کا۔

دعویٰ دلیل چاہتا ہے: یزیدی عمل سے نفرت کے اظہار کے لیے حسینی ماڈل اپناناہر دور کی ضرورت ہے۔ شریعت کے قوانین کی بالادستی جب تک رہی؛ یزیدیت خائف وپریشاں رہی۔ حسینی بننا ہے تو حق کی عادت ڈالو۔ حسینیت نام ہے صدقِ ایفائے عہد کا۔ حسینیت نام ہے غیر شرعی نظام کے مقابل حفظِ شریعت کا۔ آج یزیدی افعال واعمال کو جواز کی پوشاک پہنائی جارہی ہے۔ زمانی تقاضے کے نام پر مسلمہ مسائلِ اسلامی میں الحاق کی جراء ت یقیناًیزیدی فکر و خیال کی تائید ہے، اس کا مرتکب لاکھ حسینی کہلوائے حقیقتاً وہ نفس وطبیعت کا غلام ہے۔ شہرت و طمع و لالچ میں یزیدیت کو عملی شکلوں میں اپنانے کی مہم خطرناک ہے۔ اس پر قدغن لگانا چاہیے۔ بہر کیف! حسینی مشن پر استقامت ودوام ضروری ہے اور ساتھ ہی تقاضاے محبت وعقیدت یہ ہے کہ شرعی معاملات میں اسلامی اصولوں کو ترجیح دیں اور یہی ہمارے لیے ممکن العمل بھی ہے اور دعویِ محبت کا ثبوت بھی۔

احکام خداوندی کی تعمیل: حسین اعظم رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقا نے اطاعتِ خداوندی و فرامینِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل آوری کا عملی نمونہ دُنیا کے رُو برو پیش کیا۔ نماز دونوں طرف تھی، ایک سمت رسماً تھی دوسری سمت مکمل اطاعت کے ساتھ تھی۔ اہلِ وفا کی نماز ’’نمازِ عشق ادا ہوتی ہے تلواروں کے سائے میں‘‘ کا مظہر تھی۔ دوسری طرف بے روح نماز تھی جس میں نماز کا حکم فرمانے والا آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی آلِ پاک سے نفرت تھی۔کربلا کا میداں نمازِ حسینی سے احکامِ خداوندی کی تعمیل کا نظارہ پیش کرتا ہے۔ درسِ عمل ہے کہ حاملانِ محبتِ حسینی ہر حال میں نمازوں کے پابند رہیں۔
حقوق کی پاس داری: حقوق کی پامالی سے ہی دہشت گردی کا جنم ہوتا ہے۔ جس کا جو حق ہے وہ ادا کرنا اسلامی اطاعت شعاری کا نمایاں پہلو ہے۔ آج حقوق کی پامالی عام سی بات ہو گئی ہے، اقارب کی حق تلفی، اعزا کی حق تلفی، درس گاہوں میں طلبا کی حق تلفی، ورثا کی حق تلفی، مال ودولت کی طمع نے بھائی بہنوں میں حق تلفی کو رواج دیا،آج ہم حقوق کی ادائیگی میں چشم پوشی کرتے ہیں۔ حسین اعظم سے محبت کا تقاضا حقوق کی ادائیگی ہے، شریعتِ اسلامی کے حقوق کے تحفظ کی خاطر عظیم نواسے نے دینِ مصطفوی کو بچایا اور ہم شریعتِ مطہرہ کے مقرر کردہ حقوق سے کوتاہی کرتے ہیں! افسوس! کوتاہی ہماری اور پھر یہ شکوہ کہ مال میں برکت و خیر نہیں، رزق میں فراوانی نہیں، پریشاں حالی ہے، کاروبار زوال پذیر ہے۔ اسباب کے تدارک کے بجائے مفلوک الحالی

کا رونا رونا دانش مندی نہیں۔ اب بھی وقت موجود ہے۔ جس کا جو حق ہے اسے ادا کیجیے۔ فکروخیال کا قبلہ درست کیجیے۔ محبتوں کے تقاضے سمجھیے۔ نفرتوں کے غبار سے نکلیے۔ محبتوں کے شناور بن جائیے۔ دل بڑا کیجیے۔ روٹھوں کو منائیے۔ تعلیماتِ حسین اعظم کے علم بردار بن کر بڑھیے۔ یزیدی ظلم کے مقابل مظلوموں کے سچے ہم درد بنیے۔ حق تلفی کے مقابل اخلاقِ صالح کی تلوار بن جائیے۔ یاد رکھیے! تعلیماتِ حسینِ اعظم کے حامل کیکر، تھوہڑ اور ببول کی کاشت نہیں کرتے؛ بلکہ گل ولالہ اور سوسن ویاسمن بویا کرتے ہیں جس سے گلستانِ حیات مہک مہک اُٹھتا ہے۔ آپ بھی خوش بوؤں کی بادِ صبا بن جائیے جس سے گلشنِ حیات مہک اُٹھے گا اور تعلیماتِ حسینی سے انسانیت کی فصل ہری بھری ہوجائے گی۔ ؂
یہ طوطی کے نغمے عنادل کے لہجے
نہیں نعرۂ ضیغمی کے مناسب
***

Hussain is From Me And I am From Hussain

Hussain is From Me And I am From Hussain

Hadith: PROPHET MUHAMMAD SALLALAAHU ALAIHI WASALLAM SAID: “HUSSAIN IS FROM ME, AND  I AM FROM HUSSAIN.  ALLAH LOVES WHOSOEVER  LOVES HUSSAIN…” [Jami Tirmidhi]hussain_is-_from_me_iam_from_hussain_razamovement_iarm

What is the virtue of Reading Soorat al-Kahf on Friday?

What is the virtue of  Reading Soorat al-Kahf on Friday?

The Virtue of Reading Soorat al-Kahf on Friday

“Whoever reads Soorat al-Kahf on the day of Jumu’ah, will have a light that will shine from him from one Friday to the next.”

[Narrated by al-Haakim, 2/399]

Soorat al-Kahf

Gems of Wisdom by Qutb-e-Madinah Shaykh Ziauddin Madani (Alayhir Rahmah)

Gems of Wisdom by Qutb-e-Madinah Shaykh Ziauddin Madani (Alayhir Rahmah)

.:: Golden Words of Wisdom ::..
by Qutb-e-Madinah Shaykh Diya al-Deen Ahmad
Siddiqui al-Qadiri Ridawi al-Madani (Alayhir Rahmah)

 

  • Always be steadfast on the sacred Shari’ah. The greater one is obedient to the Shari’ah the higher one attains status in Tariqah.
  • Do work for the Religion for the sake of the Religion and do not do it for name and fame.
  • Engage in feeding food even though it is basic Dhaal and rice. There is great virtues and Barakaat in feeding.
  • Become a Veiler [Sat’taar – one who hides the faults of others]. Hide the faults of the Muslim, may they be religious or worldly.
  • Duniya is an evil thing. He who is tangled with it keeps on sinking into it. He who runs away from it , it remains at ones feet.
  • Salah and Fasts are from the essentials, but real religion is rectifying ones transactions.
  • Here [in Madina al-Munawwarah] the wise and elders say; ‘Constant performance of Salaah becomes a habit, by keeping Fasts, the cost of one meal is saved and religion is the name of rectification of dealings.
  • First Salaam , second feed food and third talk. When someone visits you, first greet him then feed him and lastly ask him the reason of his visit.
  • The Murshid who is dependent on the Murid, in my view, is not a Murshid.
  • To become a Murshid is very difficult and to be a son of a Murshid is very simple. Allah SubHanuhu wa Ta’ala save us from becoming Sahibzadahs.
  • In obedience there is virtue and in innovation [Bid’ah] there is destruction. Be a follower and you will attain salvation.
  • In secrecy is salvation and fame breeds discord.
  • Allah SubHanuhu wa Ta’ala has given the cursed devil great powers. It is only Allah’s (SubHanuhu wa Ta’ala) Mercy that can protect one from the evil of the devil.
  • The Spiritual Silsilah is only one that is the Qadiriyyah. The rest are its tributaries.
  • There is no harm in eating the bread of a miser. But one must abstain from eating anything from a Man’nan . May Allah SubHanuhu wa Ta’ala protect us from the favours of a Man’nan.
  • There is no goodness in the sand of Najd, it has nothing but pure evil.
  • Do not give anyone a loan more than your financial capacity and don’t reveal the loan to anyone nor demand its repayment. If the creditor returns the loan regard it as a fresh sustenance from Allah SubHanuhu wa Ta’ala.
  • Doing good deeds is a Toufeeq from Allah SubHanuhu wa Ta’ala and a sign of acceptance. Guidance is certainly from Allah SubHanuhu wa Ta’ala but a servant has to make efforts in doing good deeds.
  • A fortunate person is he whose letter is read in the sacred city of Madina al-Munawwarah or he is discussed with goodness there or his name is mentioned there.
  • Continue extolling the sacred name of ‘Ya Ghawth Ya Ghawth’. There are blessings of this sacred name in both the worlds.
  • Never recite the Darud Sharif with the intention of Ziyaarah. The beloved Habib SallAllaho Alaihi wa Aalihi wa Sallam is not restricted to any human. If He (SallAllaho Alaihi wa Sallam) blesses anyone then it is His favour.
  • No greed, no rejection and no hoarding are virtue.
  • Wafa is either you bury your companion or he buries you in the ground.
  • Safeguard yourself from severe cold as it takes its grudge in old age.
  • Wealth is madness and seek Allah’s (SubHanuhu wa Ta’ala) protection from it as it take a long time to regain consciousness from it.
  • Fulfilling lust is a deadly companion and an evil habit. It is a lethal enemy.
  • Pride and boastfulness destroys the intellect.
  • Avoid relationship with your opposite specie.
  • Don’t ask Allah SubHanuhu wa Ta’ala for abundance, If you have reliance then there is great abundance of Barkat in little sustenance.
  • Knowledge is achieved by seeking it; sitting in the company of the knowledgeable and also by Divine Inspiration.
  • Your Murshid is he on whose hands you have initially taken Bay’ah. Regarding Faydh , take it wherever you find it.
  • Always keep far from dissention and disunity.
  • Goodness is in being kind to the creation of Allah SubHanuhu wa Ta’ala.
  • One must give charity according to the ones means and ability.
  • Never behave with severity and harshness as there is no goodness in it.
  • If anyone sits in Madina al-Munawwarah with justice and patience, then sustenance comes to him from all directions.
  • If anyone is caught in the net of a Najdi , he sinks to the depths of the ocean . If he is saved from this then regard it as a gift of a new life.
  • A poor man is a blessing and not a burden.
  • To educate an evil and incompetent person is to put the Ummah in discord.
  • Exercising patience in hardship and misfortune is the key to success.
  • Accept the excuse or apology of your enemy.
  • Do not regard your enemy weak and sickness as insignificant.
  • Spiritual culture is not to hurt the feelings of anyone.
  • Four things are disastrous to a human;
    1) To eat food when not hungry.
    2) To habitually take medication
    3) To have excessive sex
    4) To dig for the faults of others.
  • Write letters as paper horses are good.
  • He who is kind to creation is in reality engaged in the Love of the Creator (SubHanuhu wa Ta’ala).
  • People have attained everlasting wealth in Adab and enthusiasm.
  • Do not behave like a mad man in search of sustenance because whatever is destined for you, you will certainly receive.
  • Secret charity stops the wrath of Allah SubHanuhu wa Ta’ala.
  • He who desires the goodwill of creation with good conduct has brightened his face.
  • He who has good supposition lives a peaceful life.
  • An intelligent person never leaves four things; patience, thankfulness, peace and solitude.
— — —
Translated by an insignificant mendicant of the illustrious Qutb
Khadim al-Ilm al-Sharif Faqeer Abdul Hadi al-Qadiri Ridawi
Imam Ahmad Raza Academy, Durban – South Africa
Youm al-‘Arafa 9th Dhu al-Hijjat al-Haram 1432H

Islamic New Year 1438AH

Islamic New Year 1438AH

Assalamu Alaikum to All our Brethren.

Imam Ahmed Raza Movement wishes Everyone a very happy Islamic New Year 1438AH

Islamic New Year