Posts

[URDU] Proof and Legality of Standing During Iqama

 

امام و مقتدی کب کھڑے ھوں

اقامت کے وقت

 

👈🏿اقامت کے وقت کب کھڑا ہوا جائے؟

👈🏿فقہاء احناف نے اقامت میں کھڑا ہونے کے بارے میں تین صورتیں بیان کی ہیں ان کا جاننا ضروری ہے، تاکہ محل اختلاف متعین ہوجائے۔

1⃣اول یہ کہ امام وقت اقامت جانب محراب سے مسجد میں آئے۔

2⃣دوسرا یہ کہ امام پیچھے یا اطراف مسجد سے آئے

3⃣تیسرا یہ کہ امام و مقتدی وقت اقامت مسجد میں موجود ہوں۔

👈🏿پہلی دو صورتوں میں ہمارا کوئی اختلاف نہیں ہے،

📌 لیکن تیسری صورت میں ہمارا اختلاف ہے۔

📢تیسری صورت جس میں امام و مقتدی مسجد میں موجود ہوں تو اس کا حکم یہ ہے کہ

 ’’حی علی الصلوٰۃ 

یا 

حی علی الفلاح‘‘ 

یا

قدقامت االصلوۃ

پر 

کھڑا ہونا امام اور مقتدی کےلئے مستحب ہے اور اس سے پہلے کھڑا ہونا مکروہ ہے۔ 

اس کے متعلق فقہاء احناف صراحتاً بیان کرتے ھیں

🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡

1⃣ علامہ ابوبکر بن مسعود کاسانی (المتوفی 557ھ)لکھتے ہیں

🌴 امام قوم کے ساتھ مسجد میں ہو تو امام و مقتدی سب کو صف میں اس وقت کھڑا ہونا مستحب ہے جب موذن حی علی الفلاح کہے

📕 (بدائع الصنائع،

جلدنمبر1,

صفح نمبر200)

2⃣ ’’تنویر الابصار‘‘ میں ہے

🌴جب امام محراب کے قریب ہو تو امام اور قوم حی علی الفلاح پر کھڑے ہوں گے 

📕 (تنویر الابصار برحاشیہ شامی,

جلدنمبر1,

صفح نمبر315)

3⃣ علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ’’فتاویٰ شامی‘‘ میں بارہ مستند کتابوں کے حوالے سے لکھتے ھیں

 🌴 ایسا ہی کنزالدقائق، نور الایضاح، اصلاح، ظہیریہ اور بدائع وغیرہ میں ہے اور ’’الدرر‘‘ کے متن اور شرح میں ہے کہ ’’حی الصلوٰۃ‘‘ پر قیام کیا جائے۔ الشیخ اسماعیل نے اپنی شرح ’’عیون المذاہب‘‘ فیض، وقایہ، نقایہ، حاوی اور مختار میں نقل کیا: 

میں (ابن عابدین شامی) کہتا ہوں کہ ملتقی کے متن میں اسی کو بیان کیا گیا ہے اور ابن کمال نے بھی اسی کو صحیح قرار دیا ہے اور ذخیرہ میں کہا گیا ہے 

کہ امام اور مقتدی حضرات جب موذن حی الفلاح کہے اس وقت کھڑے ہوں۔ علماء ثلاثہ (امام ابو حنیفہ، امام ابو یوسف، امام محمد رحمہم اﷲ عنہم)کے نزدیک یہی صحیح مذھب ھے

📕 (ردالمحتار’

کتاب الصلوۃ,

جلدنمبر2,

صفح نمبر233)

📢علامہ شامی علیہ الرحمہ نے اس عبارت میں  بارہ مستند کتابوں کا حوالہ پیش کیا کہ حی علی الصلوٰۃ یا حی علی الفلاح پر کھڑا ہونا چاہئے۔

👈🏼 اسی طرح:

7⃣1⃣( تبیین الحقائق ۱/۱۰۸ )

8⃣1⃣( درر شرح غررا  ۱/۸۰ )

9⃣1⃣( عمدۃ القاری شرح بخاری ۸/۲۱۱ )

0⃣2⃣( شرح مسلم نووی ۱/۲۲۱ )

1⃣2⃣( فتح الباری شرح بخاری ۲/۱۲۰ )

2⃣2⃣( کرمانی شرح بخاری ۵/۳۲)

3⃣2⃣( ارشاد الساری شرح بخاری ۲/۱۳۱ )

4⃣2⃣( بحر الرائق ۳/۲۰۸)

5⃣2⃣( ملتقی الابحرا ۱/۲۶۹)

6⃣2⃣( مجمع الانہر ۱/۷۸)

7⃣2⃣( محیط البرہانی ۲/۱۷ )

8⃣2⃣( فتاویٰ ہندیہ المعروف فتاویٰ عالمگیری ۱/۵۷)

🌴 ہمارے تینوں اماموں کے نزدیک امام اور مقتدی اس وقت کھڑے ہوں گے جب موذن ’’حی علی الفلاح‘‘ کہے اور یہی صحیح ہے۔

مذکورہ بالا کتب میں صراحتاً یہ بات موجود ہے کہ ’’حنفیہ‘‘ کا مذہب یہ ہے کہ اقامت کے وقت ’’حی علی الصلوٰۃ یا “حی علی الفلاح‘‘ پر کھڑا ہونا مستحب ہے

🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡

❌اقامت میں امام و مقتدی کا ’’حی الصلوٰۃ‘‘سے پہلے کھڑا ہونا کیسا ہے؟❌

1⃣ملا نظام الدین متوفی ۱۱۶۱ھ نے فتاویٰ عالمگیری میں جو فقہ حنفی میں مستند اور متفق علیہ فتاویٰ ہے، نے لکھا

🌴کھڑے ہوکر انتظار کرنا مکروہ ہے لیکن بیٹھ جائے پھر کھڑا ہو جب موذن اپنے حی الفلاح پر پہنچے

📕(فتاویٰ عالمگیری،

کتاب الصلوۃ,

جلدنمبر1,

صفح ممبر57)

2⃣ علامہ سید احمد طحطاوی حنفی فرماتے ہیں

🌴جب موذن نے اقامت شروع کی اور کوئی شخص مسجد میں داخل ہوا تو وہ بیٹھ جائے، کھڑے ہوکر انتظار نہ کرے کیونکہ یہ مکروہ ہے جیسا کہ قھستانی کی مضمرات میں ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائے اقامت میں کھڑا ہونا مکروہ ہےاور لوگ اس سے غافل ہیں

📕 (حاشیہ مراقی الفلاح شرح نورالایضاح ۱/۱۸۶)

📢لہذا لوگوں کو اس غفلت سے نکل کر اپنے امام کے مذہب پر عمل کرنا چاہئے۔حضورﷺ اور صحابہ و تابعین رضی اﷲ عنہم کا عمل واقوال اس مسئلہ میں حدیث وآثار کافی تعداد میں موجود ہیں چند ایک ملاحظہ فرمائیں

🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡

🌴جب حضرت بلال رضی ﷲ عنہ اقامت میں ’’قد قامت الصلوٰۃ‘‘ کہنے لگتے تو رسول ﷲﷺ اٹھ کھڑے ہوتے پھر ﷲ اکبر کہتے۔

📕( المسند البزار ۸/۲۹۸)

📕( مجمع الزوائدومنبع الفوائد ۲/۱۰۶)

📕( میزان الاعتدال ۱/۴۶۴ )

📕( کنزالعمال ۷/۵۴ رقم الحدیث ۱۷۹۲۲)

📕( سنن الکبریٰ بیہقی ۲/۲۲ )

📕( الاوسط لابن المنذر ۶/۱۷۴ رقم ۱۹۲۷)

🌴حضرت ام حبیبہ رضی ﷲ عنہا فرماتے ہیں کہ رسول ﷲﷺ گھر میں تھے، موذن نے اقامت کہی، جب اس نے حی الصلوٰۃکہا تو رسول اﷲﷺ اس وقت نماز کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے

📕( مصنف عبدالرزاق ۱/۴۸۱ رقم ۱۸۵۱)

📕( معجم الکبیر اللطرابی ۲۳/۲۴۴ رقم ۴۸۵ )

📕( جامع الاحادیث ۴۰/۲۳۴ رقم ۴۳۵۴۳ )

📕( کنزالعمال

۸/۳۶۲ رقم ۲۳۲۷)

🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡

🌷امام حسین کا عمل🌷

 1⃣موذن نے نماز کے لئے اقامت کہی تو جب وہ ’’قد قامت الصلوٰۃ‘‘ کہنے لگا تو حضرت امام حسین رضی ﷲ عنہ کھڑے ہوگئے

📕( مصنف عبدالرزاق ۱/۵۵۰ رقم ۱۹۳۷ )

2⃣حضرت امام حسین رضی ﷲ عنہ بھی ایسا ہی کرتے تھے کہ قد قامت الصلوٰۃ پر کھڑے ہوتے

📕(سنن الکبریٰ للبیہقی ۲/۲۰ تحت رقم ۲۳۸۰)

🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡

🌷حضرت انس کا عمل🌷

1⃣ امام بیہقی لکھتے ہیں ہم نے حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے روایت کیا۔ آپ کا معمول یہ تھا کہ جس وقت ’’قد قامت الصلوٰۃ‘‘ کہا جانے لگا تو آپ تیزی سے کھڑے ہوجاتے

(سنن الکبریٰ للبیہقی ۲/۲۰ تحت رقم ۲۳۸۰)

2⃣حضرت انس رضی ﷲ عنہ اس وقت کھڑے ہوتے جب موذن قد قامت الصلوٰۃ کہنے لگتا۔

📕(فتح الباری شرح بخاری ۲/۱۲۰ تحت حدیث ۶۱۱ )

📕( تحفتہ الاحوذی ۳/۱۶۵ )

📕( کمال المعلم شرح صحیح مسلم للقاضی عیاض ۲/۳۱۰ )

📕( نیل الاوطار۳/۲۳۴ )

📕( شرح الزرقانی علی موطا امام مالک ۱/۲۱۴ )

🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡

🌷حضرت عبداللہ بن عمر کی تاکید🌷

🌴حضرت عطیہ بیان فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت عبدﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہ کے پاس بیٹھے تھے جونہی موذن نے اقامت کہنا شروع کی ہم اٹھ کھڑے ہوئے تو حضرت عبدﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہ نے فرمایا بیٹھ جائو پس جب موذن قد قامت الصلوٰۃ کہنے لگے تب کھڑے ہونا

📕(مصنف عبدالرزاق ۱/۵۰۶ رقم ۱۹۴۰)

🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡

🌷اصحاب عبدﷲ بن مسعود رضی ﷲ عنہ کا معمول🌷

🌴امام ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ بیٹھ کر اقامت سننے اور ’’قد قامت الصلوٰۃ‘‘ کے نزدیک کھڑا ہونے کا مسئلہ بیان کرکے لکھتے ہیں

🌴 امام سعید بن مسعود نے بطریق ابی اسحاق عبدﷲ بن مسعود رضی ﷲ عنہ کے اصحاب سے ایسا ہی روایت کیا ہے 

📕(فتح الباری ۲/۱۲۰ تحت حدیث ۶۱۱)

🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡

🌷صحابہ و اکابرتابعین کا مذہب🌷

🌴معاویہ ابن قرۃ کہتے ہیں صحابہ و تابعین اسے مکروہ جانتے تھے کہ موذن کے اقامت شروع کرتے ہی آدمی نماز کے لئے اٹھ کھڑا ہو

📕 (مصنف عبدالرزاق ۱/۴۸۰ رقم ۱۸۵۰)

🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡

📢 اس میسج کو عام کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کی اصلاح ھو

🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡

طالب دعا۔مفتی محمد منظور رضا بن محمد الحنفی النعیمی القادری العلوی حفظہ اللہ

A Non-Muslim washing the clothes of Muslims

A Non-Muslim washing the clothes of Muslims

Questions: Can a non-Muslim wash the clother of Muslims?

Answer: Yes, there is no legal (Shari’i) harm, in this.

 

Allah Knows Best
Answered by
Mufti Muhammad Ibrahim Maqbuli

Does Sweating Break Wudu?

Does Sweating Break Wudu?

Question: I would like to know if after exercise wudu is necessary for prayer or a proper bath or ghusl due to excessive sweating.

Answer: Sweating does not break Wudu or Ghusl, Yes, if the sweat gives unpleasant odour then Ghusl is recommended. However, if the time of Salah is short (meaning you don’t have time to wash yourself peoperly) then pray Salah and there will be no need of repeating it.

Allah Knows Best.
Answered by
Mawlana Muhammad Hussain Qadiri

An Engaged Couple Texting Each other

An Engaged Couple Texting Each other

Question: Nowadays it is commonly seen that after engagement, the couple communicate with each other through texting or phone call. Is this Permissible?

Answer: A fiancé is non-mahram, communicating with a non-mahram without any legal (shar’i) necessity is impermissible, be it through any means. It is mentioned in the fifth volume of ad-Durr ul-Mukhtar in the Book of Prohibited and Permitted things, Communication by texting is also haram (prohibited)

It is said: “The pen is a tongue from the two tongues.”

Allah Knows Best
Answered by
Mufti Muhammad Ibrahim Maqbuli

What is Fiqh

Fiqh

The word fiqh has been lexically derived from the Glorious Qur’an.

Allah Most High states:
And it is not possible for Muslims that all should come out. Then why should not a party from each group should come out that they may gain understanding of religion and warn their people after coming back to them, haply they may guard themselves. [Surah: 9 At-Tawbah, Verse:122]

In the verse above, the word: Li-Yatafaqqahu is the source of the derivative fiqh.

There are more than nineteen verses throughout the Qur’an in which the word fiqh has been mentioned in its different word word forms but which all have the same root word – fiqh.

The Lexical Meaning of Fiqh

Fiqh means to understand or acknowledge something or to understand the rationale behind a person’s conversation.

The Technical Meaning of Fiqh

Fiqh means to understand the rulings of Shari’ah from which they are derived – i.e. from the Qur’an, Hadith, Ijma’ and Qiyas.

Imam Abu Hanifa has defined it as:

The understanding of those things which are beneficial for one’s self and that which are not. i.e. the understanding of what is Halal and Haraam, what is permissible and what is not.

This meaning was part of the Shari’i definition of fiqh but nowadays the term fiqh  is used as the understand of the most of the rulings of Shari’ah.

According to the Sufis, fiqh is:

The amalgamation of both sacred knowledge and practice.

To be Continued in next post – Topic: The purpose of Fiqh and its Objectives.