Posts

Is Saying Jummah Mubarak Bidah? by Hafiz Ehsan Qadiri

Is Saying Jummah Mubarak Bidah?

Is Saying Jummah Mubarak Bidah? Saying Jummah Mubarak is  proven by eminent scholars of Islam i.e Hafiz Ehsan Qadiri and Sayed Husain Razvi

Morality & Social Awarness in Islam

Morality & Social Awarness in Islam

Morality & Social Awareness in Islam

Morality & Social Awareness in Islam: Hazrat Abu Sa’id al-Khudri (Radi Allahu Anhu) reported Allah’s Messenger (Sallal Laahu Alaihi Wasallam) as saying, “Avoid sitting in the roads.” His hearers replied, “Messenger of Allah, we must have meeting places in which to converse,” so he said, “Well, if you insist on meeting (or sitting), give the road its due.” He was asked what the road’s due was and replied, “Lowering the eyes, removing anything offensive, returning salutation, recommending what is reputable and forbidding what is disreputable.” (Bukhari Sharif, Muslim Sharif)

 

Hazrat Abu Huraira (Radi Allahu Anhu) reported Allah’s Messenger (Sallal Laahu Alaihi Wasallam) as saying on the same occasion, “And guiding people on their way.” (Abu Dawood)

Hazrat Umar (Radi Allahu Anhu) quoted Allah’s Messenger (Sallal Laahu Alaihi Wasallam) as saying on the same occasion, “Help the sorrowful and guide those who have lost their way.” (Abu Dawood)

Significance of Salutation in Islam

Significance of Salutation in Islam

Significance of Salutation in Islam

Significance of Salutation in Islam: Hazrat at-Tufail Bin Ubayy Bin Ka’b (Radi Allahu Anhu) told that he used to go to Hazrat Ibn Umar (Radi Allahu Anhuma) and accompany him to the market in the morning, and that when they came to the market in the morning Hazrat Abdullah Bin Umar (Radi Allahu Anhuma) gave a salutation to sellers of goods of poor quality, people engaged in confirming a bargain, poor people, in fact to everyone he passed. Hazrat at-Tufail (Radi Allahu Anhu) said that one day when he went to Hazrat Abdullah Bin Umar (Radi Allahu Anhuma) and he asked him to come with him to the market he said to him, “What is the point of your going to the market when you do not engage in selling, or ask about commodities, or offer a price for them, or sit with any company of people there? Let us sit here and talk.” He replied, “O plump one [Hazrat at-Tufail (Radi Allahu Anhu) was plump], I go out in the morning only for the sake of a salutation, saluting those I meet.” (Maalike, Baihaqi)

شھادت حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

شھادت حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ
قاری محمد انصار احمد نوری ، ممبر امام احمد رضا مومنٹ علماء بورڈ، بنگلور

نام و نسب: آپؓ کا نام’’ عثمان‘‘ کنیت ابو عمر اور ذوالنورین ہے، پانچویں پشت میں آپکا سلسلہ نسب رسول اللہ ﷺ کے شجرۂ نسب سے مل جاتا ہے ۔ آپ کی نانی ام حکیم جو حضرت عبد المطلب کی بیٹی تھیں وہ حضور ﷺ کے والد گرامی حضرت عبد اللہؓ کے ساتھ ایک ہی پیٹ سے پیدا ہوئی تھیں۔ اس رشتہ سے حضرت عثمان غنیؓ کی والدہ حضور ﷺ کی پھوپھی کی بیٹی تھیں ۔ آپ کی پیدائش عام الفیل کے چھ سال بعد ہوئی۔
ْؓقبول اسلام: حضرت عثمان غنیؓ ان حضرات میں سے ہیں جن کو حضرت ابو بکر صدیقؓ نے اسلام کی دعوت دی تھی۔ آپ قدیم الاسلام ہیں یعنی ابتدائے اسلام ہی میں ایمان لے آئے تھے آپ نے حضرت ابو بکرؓ ،حضرت علی، اور حضرت زید، کے بعد اسلام قبول کیا۔جب حضرت عثمان غنیؓ حلقۂ بگوش اسلام ہوئے تو ان کا پورا خاندان بھڑک اٹھا یہاں تک کہ آپ کا چچا حکم بن ابی العاص اس قدر برہم ہوا کہ آپ کو پکڑ کر ایک رسی سے دیا اور کہا کہ اگر تم نے اپنے باپ دادا کا دین چھوڑ کر ایک دوسرانیا مذہب اختیار کر لیا ہے۔ جب تک کہ تم اس نئے مذہب کو نہیں چھوڑو گے ہم تمہیں نہیں چھوڑیں گے اسی طرح باندھ کر رکھیں گے۔آپ نے فرمایا : میرے جسم کے ٹکڑے تکڑے کر ڈالو یہ مجھے منظور ہے مگر دل سے دین اسلام نکل جائے یہ مجھے منظور نہیں۔اس طرح آپکا استقلال دیکھا تو مجبور ہو کر آپ کو رہا کر دیا۔
شہادت کی خبر:حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت ہے کہ ایک روز نبی کریم ﷺ ،حضرت صدیق اکبر،عمر فاروق، عثمان غنی رضی اللہ عنہم احد پہاڑ پر تھے، یکا یک وہ ہلنے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :اے احد!تو ٹھہر جا کہ تیرے اوپر صرف ایک رسول، یاصدیق،اور دو
شہید ہیں (تفسیر معالم التنزیل ص ۲۱۶) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ پہاڑوں پر بھی اپنا حکم نافذ فرماتے تھے۔ اور یہ بھی ثابت ہوا کہ خدائے تعالیٰ نے آپ کو علم غیب عطا فرمایا تھا کہ برسوں پہلے حضرت عمرؓ اور عثمان غنیؓ کے شہید ہونے کے بارے میں حضور ﷺ خبر دے رہے ہیں ۔ اعلیحضرت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
اور کوئی غیب کیا تم سے نہا ں ہو بھلا ۔ جب نہ خدائی چھپا تم پہ کروروں درود
اور حضرت عثمان غنیؓ خوب جانتے تھے کہ حضور ﷺ کا فرمان بدل نہیں سکتا ہے اسی لئے آپؓ اپنی شہادت کا انتظار فرما رہے تھے۔حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے مستقبل میں ہونے والے فتنہ کا ذکر کیا تو ارشاد فرمایا کہ یہ شخص فتنہ میں ظلم سے قتل کیا جائے گا ۔ یہ کہتے ہوئے آپ نے حضرت عثمان غنیؓ کی طرف اشارہ فرمایا:
حضرت عثمان غنیؓ اور احادیث:
حضرت عثمان غنی کے فضائل میں بہت سی حدیثیں بھی وارد ہیں۔ چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ایک روز حضرت عثمان غنیؓ سے فرمایا کہ اے عثمان! خدائے تعالیٰ تجھ کو ایک قمیص پہنائے گا یعنی خلعت خلافت سے سرفراز فرمائے گا۔ پھر اگر لوگ اس قمیص کے اتارنے کا تجھ سے مطالبہ کریں تو ان کی خواہش پر اس قمیص کو مت اتارنا یعنی خلافت کو نہ چھوڑنا۔ اسی لئے جس روز ان کو شہید کیا گیا۔ انہوں نے حضرت ابو سہلہؓ سے فرمایا کہ حضور ﷺ نے مجھ کو خلافت کے بارے میں وصیت فرمائی تھی۔ اسی لئے میں اس وصیت پر قائم ہوں اور جو کچھ مجھ پر بیت رہی ہے اس پر صبر کر رہاہوں ۔(ترمذی)
آپ کی خلافت:
حضرت علامہ جلال الدین سیوطیؓ اپنی مشہور کتاب تاریخ الخلفا میں فرماتے ہیں کہ زخمی ہونے کے بعد حضرت عمر فاروقؓ کی طبیعت جب زیادہ ناساز ہوئی تو لوگوں نے آپ سے عرض کیا کہ یا امیر المومنین آپ ہمیں کچھ وصیتیں فرمائیے اور خلافت کے لئے کسی کا انتخاب فر ما دیجئے۔ تو آپ نے فرمایا علاوہ ان چھ اصحاب کہ جن سے رسول اکرم ﷺ راضی اور خوش ہو کر اس دنیا سے تشریف لے گئے میں کسی اور کو مستحق نہیں سمجھتا ہوں۔پھر آپ نے حضرت عثمان،علی،طلحہ،زبیر،عبد الرحمن ،سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے نام لئے ۔جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا وصال ہوگیا، لوگ ان تجہیز و تکفین سے فارغ ہو گئے تو تین دن کے بعد خلیفہ کو منتخب کرنے کے لئے جمع ہوئے۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے فرمایا کہ پہلے تین آدمی اپنا حق تین آدمیوں کو دے کر دست بردار ہو جائیں ، لوگوں نے اس بات کی تائید کی تو حضرت زبیرحضرت علی کو ، حضرت سعد بن وقاص حضرت عبد الرحمن کو، اور حضرت طلحہ حضرت عثمان کو اپنا حق دے کر دست بردار ہو گئے۔حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا انتخاب کا کام میرے سپرد کردیں۔ قسم خدا کی میں آپ لوگوں میں سے بہتر اور افضل شخص کا انتخاب کروں گا۔آپ نے حضرت علی و حضرت عثمان غنی سے عہد و پیمان لیا اس کے بعد آپ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور ان کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی بیعت کر لی، اس کے بعد تمام مہاجرین و انصار نے
۔حضرت عبد الر حمن بن عوف نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بجائے حضرت عثمان کو اس لئے خلیفہ منتخب کیا کہ جو بھی صائب الرائے تنہائی میں ان سے ملتا وہ یہی مشورہ دیتے کہ خلا فت حضرت عثمان کو ہی ملنی چاہئے وہ اس کے زیادہ مستحق ہیں۔

آپ کی شہادت:

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا دور خلافت کل بارہ سال رہا۔ شروع کے چھ برسوں میں لوگوں کو آپ سے کوئی شکایت نہیں ہوئی بلکہ ان بر سوں میں وہ حضرت عمررضی اللہ عنہ سے بھی زیادہ لوگوں میں مقبول رہے اس لئے کہ حضرت عمرؓ کے مزاج میں کچھ سختی تھی اور آپ میں کوئی سختی کا وجود نہ تھاآپؓ بہت با مروت تھے۔آخری چھ برسوں میں بعض گورنروں کے سبب لوگوں کو آپ سے شکایت ہو گئی۔

Hajj – The one of the five pillars of Islam.

Hajj – The one of the five pillars of Islam.

Hajj is one of the five pillars of Islam. The yearly flood of pilgrims from the remotes places of Islam has been a remarkable means of spiritual renewal for distant communities, which are thus brought closer to the manifest centre of Islam. Historically, the pilgrimage has been a means of knitting together the many races and nations that make the Muslim community, and there is no other event on earth that can compare with it.

Hajj is only for Allah Ta’ala

Verse: “And for the sake of Allah, the people are to perform pilgrimage to this house, who could find a way there.” (Surah Aal E Imran, Verse 97)

There are three ways of Performing the Hajj

Hajj at-Tamatt’u (Interrupted) this means entering into ahram for the Umrah, taking off after performing the Umrah, and then entering into Ahram again for the Hajj. People who come from other countries usually perform Hajj at-Tamatt’u.

Hajj al Qiran (Combined) this means entering into Ahram for both the Umrah and the Hajj at the same time, not taking off the Ahram until the day of sacrifice at Mina.

Hajj al-Ifrad (Single) this means entering into Ahram only for the Hajj.

My Beloved Prophet sallal laahu alaihi wasallam’s beloved devotees! We know that Hajj is compulsory on all those that are able to perform it, if they have the means. Those that can afford to perform pilgrimage should focus on the beginning of the ayah. Hajj is only “for the sake of Allah” and for His pleasure. It is not for fame, for a name or title, there should only be one yearning, and that is “O Allah, I am performing this only for you.” You will see the blessings of this in both worlds Insha Allah. May Allah Ta’ala grant us all Hajj for His Pleasure. Aameen

My Faith is that the Progress of Islam

My Faith is that the Progress of Islam

“My Faith is that the Progress of Islam does not depand on the use of Sword bu its believers, but the reult of the supreme sacrifice of Hussain.”

– Mahatma Gandhi

Gandhi on Imam Hussain

Excellence of Hazrat Umar e Farooq Radi Allahu Ta’ala Anhu

Excellence of Hazrat Umar e Farooq Radi Allahu Ta’ala Anhu

Sayyiduna Abdullah bin Abbas (may Allah be pleased with both the father and the son) narrates when Sayyiduna Umar Radi Allahu Ta’ala Anhu accepted Islam, Jibraeel Alaihis Salam descent and said:

“O Muhammad – may Allah send greetings and salutations on him – indeed, the residents of the heavens are rejoicing in Umar`s embracing Islam.” [Sunan Ibn Majah, Hadith 103]

It is related that Sayyiduna ‘Abdullah Radi Allahu Ta’ala Anhu said,

“We have become mighty since ‘Umar became Muslim.” [Sahih al-Bukhari, Book of the Virtues of the Companions, Hadith 3481]

Sayyiduna Uqbah bin Amir (may Allah be pleased with him) narrates that the Holy Prophet, may Allah send greetings and salutations on him, said:

“If there were to be a prophet after me, indeed he would be Umar, son of Khattab”. [Sunan Tirmidhi, Hadith 3686]

Sayyiduna Abdullah bin Umar (may Allah be pleased with both the father and the son) narrates that one day the Holy Prophet, may Allah send greetings and salutations on him, went out and entered the mosque with Abu Bakr and Umar, one on his right hand and the other on his left, holding their hands. Then he said:

“We will be raised thus on the Day of Resurrection.” [Sunan Tirmidhi, Hadith 3669]

Sayyiduna Jabir bin Abdullah (may Allah be pleased with both the father and the son) narrates:

“Umar said to Abu Bakr, “O best of men after Allah`s Messenger, may Allah send greetings and salutations on him!” Abu Bakr replied, “Seeing that you have that, (I would also tell you that) I heard Allah`s Messenger, may Allah send greetings and salutations on him, say, “The sun has not risen on a better man than Umar.”” [Sunan Tirmidhi, Hadith 3684]

Sayyiduna Abdullah Ibn Mas’ood Radi Allahu Ta’ala Anhu said:

“If the knowledge of ‘Umar was put on one side of a scale, and the knowledge of the people on the other side of the scale, ‘Umar’s knowledge would weigh more.”[Al-Mustadrak ‘ala al-Sahîhayn‎, Vol. 3, Page 92, Hadith 4497]

Sayyiduna Ibn ‘Abbas (may Allah be pleased with him) narrates that the Messenger of Allah (may Allah bestow peace and blessings upon him) said,

“Abu Bakr and Umar are to the religion like the station of the hearing and the sight to the head.” [Al-Khattib in Tarikh, Vol. 8, Page 459 from Jabir]

Heavenly Women of Islam

Heavenly Women of Islam
Ummul Momineen Sayyidatuna Umme Salama Radi Allahu Ta’ala Anha…

Hazrat Sayyidatuna Umme Salama Radi Allahu Ta’ala Anha was one of the Blessed wives of Rasoolullah SallAllahu Alaihi Wasallam. Her father’s name was either Huzaifa or Sahl. Her mother’s name was Aatika bint Aamir. She was initially married to Abu Salamah Abdullah bin Asad Radi Allahu Ta’ala Anhu and both husband and wife accepted Islam.  They first migrated to Habsha and then returned to Makkah. Then after some time they decided to migrate to Madina.  Abu Salama Radi Allahu Ta’ala Anhu saddled his camel and got Sayyidatuna Umme Salama Radi Allahu Ta’ala Anha to sit on the camel.  She sat on the camel, carrying her suckling baby in her arms.

All of a sudden, the family of Hazrat Sayyidatuna Umme Salama Radi Allahu Ta’ala Anha rushed towards them and said, ‘This girl from our family will not go to Madina.’  They then forcefully removed her from the camel.  On seeing this, the family of Hazrat Abu Salama Radi Allahu Ta’ala Anhu said, ‘This child is from our lineage so we shall never allow this child to remain in your care.’ In this way, both his wife and his child were separated from him.  Hazrat Abu Salama Radi Allahu Ta’ala Anhu did not change his intention, and leaving his wife Umme Salama Radi Allahu Ta’ala Anha and his baby in the trust of Allah, he migrated to Madinatul Munawwarah.  Hazrat Umme Salama Radi Allahu Ta’ala Anha would weep day and night in the sadness of being separated from her husband and child.

Looking at her condition, her paternal cousin felt very sad and thus went to Banu Mughira and said, ‘Why are you keeping this lady away from her husband and child?  Do you not see that she is sitting on a mountain top for a week, weeping in the separation of her husband and child?’  Finally, the Banu Mughira took heed to his words and allowed her to take her child and go to her husband  in Madina. The family of Hazrat Abu Salama Radi Allahu Ta’ala Anhu also agreed to hand the baby over to her.  Hazrat Umme Salama Radi Allahu Ta’ala Anha then took her child and departed to Madina.

To be continued..

Hadith of the Day: The Character of ISLAM is MODESTY

Hadith of the Day: The Prophet Muhammad ﷺ Said Every Deen Has innate Character. The Character of ISLAM is MODESTY (Haya) – Abu Dawood

Islam

The Character of ISLAM is MODESTY (Haya) – Abu Dawood

The Hadith of the Day

The Hadith of the Day:

The Prophet Muhammad Sallalahu Alahi Wasallam Said: If anyone Keeps Goods Till The price rises, He is A Sinner. – Muslim

10613055_766259550095434_566981490399762601_n