Posts

شھادت حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

شھادت حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ
قاری محمد انصار احمد نوری ، ممبر امام احمد رضا مومنٹ علماء بورڈ، بنگلور

نام و نسب: آپؓ کا نام’’ عثمان‘‘ کنیت ابو عمر اور ذوالنورین ہے، پانچویں پشت میں آپکا سلسلہ نسب رسول اللہ ﷺ کے شجرۂ نسب سے مل جاتا ہے ۔ آپ کی نانی ام حکیم جو حضرت عبد المطلب کی بیٹی تھیں وہ حضور ﷺ کے والد گرامی حضرت عبد اللہؓ کے ساتھ ایک ہی پیٹ سے پیدا ہوئی تھیں۔ اس رشتہ سے حضرت عثمان غنیؓ کی والدہ حضور ﷺ کی پھوپھی کی بیٹی تھیں ۔ آپ کی پیدائش عام الفیل کے چھ سال بعد ہوئی۔
ْؓقبول اسلام: حضرت عثمان غنیؓ ان حضرات میں سے ہیں جن کو حضرت ابو بکر صدیقؓ نے اسلام کی دعوت دی تھی۔ آپ قدیم الاسلام ہیں یعنی ابتدائے اسلام ہی میں ایمان لے آئے تھے آپ نے حضرت ابو بکرؓ ،حضرت علی، اور حضرت زید، کے بعد اسلام قبول کیا۔جب حضرت عثمان غنیؓ حلقۂ بگوش اسلام ہوئے تو ان کا پورا خاندان بھڑک اٹھا یہاں تک کہ آپ کا چچا حکم بن ابی العاص اس قدر برہم ہوا کہ آپ کو پکڑ کر ایک رسی سے دیا اور کہا کہ اگر تم نے اپنے باپ دادا کا دین چھوڑ کر ایک دوسرانیا مذہب اختیار کر لیا ہے۔ جب تک کہ تم اس نئے مذہب کو نہیں چھوڑو گے ہم تمہیں نہیں چھوڑیں گے اسی طرح باندھ کر رکھیں گے۔آپ نے فرمایا : میرے جسم کے ٹکڑے تکڑے کر ڈالو یہ مجھے منظور ہے مگر دل سے دین اسلام نکل جائے یہ مجھے منظور نہیں۔اس طرح آپکا استقلال دیکھا تو مجبور ہو کر آپ کو رہا کر دیا۔
شہادت کی خبر:حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت ہے کہ ایک روز نبی کریم ﷺ ،حضرت صدیق اکبر،عمر فاروق، عثمان غنی رضی اللہ عنہم احد پہاڑ پر تھے، یکا یک وہ ہلنے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :اے احد!تو ٹھہر جا کہ تیرے اوپر صرف ایک رسول، یاصدیق،اور دو
شہید ہیں (تفسیر معالم التنزیل ص ۲۱۶) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ پہاڑوں پر بھی اپنا حکم نافذ فرماتے تھے۔ اور یہ بھی ثابت ہوا کہ خدائے تعالیٰ نے آپ کو علم غیب عطا فرمایا تھا کہ برسوں پہلے حضرت عمرؓ اور عثمان غنیؓ کے شہید ہونے کے بارے میں حضور ﷺ خبر دے رہے ہیں ۔ اعلیحضرت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
اور کوئی غیب کیا تم سے نہا ں ہو بھلا ۔ جب نہ خدائی چھپا تم پہ کروروں درود
اور حضرت عثمان غنیؓ خوب جانتے تھے کہ حضور ﷺ کا فرمان بدل نہیں سکتا ہے اسی لئے آپؓ اپنی شہادت کا انتظار فرما رہے تھے۔حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے مستقبل میں ہونے والے فتنہ کا ذکر کیا تو ارشاد فرمایا کہ یہ شخص فتنہ میں ظلم سے قتل کیا جائے گا ۔ یہ کہتے ہوئے آپ نے حضرت عثمان غنیؓ کی طرف اشارہ فرمایا:
حضرت عثمان غنیؓ اور احادیث:
حضرت عثمان غنی کے فضائل میں بہت سی حدیثیں بھی وارد ہیں۔ چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ایک روز حضرت عثمان غنیؓ سے فرمایا کہ اے عثمان! خدائے تعالیٰ تجھ کو ایک قمیص پہنائے گا یعنی خلعت خلافت سے سرفراز فرمائے گا۔ پھر اگر لوگ اس قمیص کے اتارنے کا تجھ سے مطالبہ کریں تو ان کی خواہش پر اس قمیص کو مت اتارنا یعنی خلافت کو نہ چھوڑنا۔ اسی لئے جس روز ان کو شہید کیا گیا۔ انہوں نے حضرت ابو سہلہؓ سے فرمایا کہ حضور ﷺ نے مجھ کو خلافت کے بارے میں وصیت فرمائی تھی۔ اسی لئے میں اس وصیت پر قائم ہوں اور جو کچھ مجھ پر بیت رہی ہے اس پر صبر کر رہاہوں ۔(ترمذی)
آپ کی خلافت:
حضرت علامہ جلال الدین سیوطیؓ اپنی مشہور کتاب تاریخ الخلفا میں فرماتے ہیں کہ زخمی ہونے کے بعد حضرت عمر فاروقؓ کی طبیعت جب زیادہ ناساز ہوئی تو لوگوں نے آپ سے عرض کیا کہ یا امیر المومنین آپ ہمیں کچھ وصیتیں فرمائیے اور خلافت کے لئے کسی کا انتخاب فر ما دیجئے۔ تو آپ نے فرمایا علاوہ ان چھ اصحاب کہ جن سے رسول اکرم ﷺ راضی اور خوش ہو کر اس دنیا سے تشریف لے گئے میں کسی اور کو مستحق نہیں سمجھتا ہوں۔پھر آپ نے حضرت عثمان،علی،طلحہ،زبیر،عبد الرحمن ،سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے نام لئے ۔جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا وصال ہوگیا، لوگ ان تجہیز و تکفین سے فارغ ہو گئے تو تین دن کے بعد خلیفہ کو منتخب کرنے کے لئے جمع ہوئے۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے فرمایا کہ پہلے تین آدمی اپنا حق تین آدمیوں کو دے کر دست بردار ہو جائیں ، لوگوں نے اس بات کی تائید کی تو حضرت زبیرحضرت علی کو ، حضرت سعد بن وقاص حضرت عبد الرحمن کو، اور حضرت طلحہ حضرت عثمان کو اپنا حق دے کر دست بردار ہو گئے۔حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا انتخاب کا کام میرے سپرد کردیں۔ قسم خدا کی میں آپ لوگوں میں سے بہتر اور افضل شخص کا انتخاب کروں گا۔آپ نے حضرت علی و حضرت عثمان غنی سے عہد و پیمان لیا اس کے بعد آپ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور ان کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی بیعت کر لی، اس کے بعد تمام مہاجرین و انصار نے
۔حضرت عبد الر حمن بن عوف نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بجائے حضرت عثمان کو اس لئے خلیفہ منتخب کیا کہ جو بھی صائب الرائے تنہائی میں ان سے ملتا وہ یہی مشورہ دیتے کہ خلا فت حضرت عثمان کو ہی ملنی چاہئے وہ اس کے زیادہ مستحق ہیں۔

آپ کی شہادت:

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا دور خلافت کل بارہ سال رہا۔ شروع کے چھ برسوں میں لوگوں کو آپ سے کوئی شکایت نہیں ہوئی بلکہ ان بر سوں میں وہ حضرت عمررضی اللہ عنہ سے بھی زیادہ لوگوں میں مقبول رہے اس لئے کہ حضرت عمرؓ کے مزاج میں کچھ سختی تھی اور آپ میں کوئی سختی کا وجود نہ تھاآپؓ بہت با مروت تھے۔آخری چھ برسوں میں بعض گورنروں کے سبب لوگوں کو آپ سے شکایت ہو گئی۔

Khwaja Gharib Nawāz Radi Allāhu ‘Anhu

..:: Isfahan ::..

Khwaja Gharib Nawāz Radi Allāhu ‘Anhu journeyed to Isfahan and there he met with the leader of the Mashā’ikh, Shaykh Mehmūd Isfahanī Radi Allāhu ‘Anhu.
Initially, Khwaja Qutbudīn Bakhtiyār Kākī Radi Allāhu ‘Anhu intended to become a Murīd of Shaykh Mehmūd Isfahanī Radi Allāhu ‘Anhu but when he saw the overwhelming personality of Hazrat Khwaja Gharīb Nawāz Radi Allāhu ‘Anhu, his heart melted in his love and he was the totally captivated by Him.

Khwaja Qutbudīn Bakhtiyār Kākī Radi Allāhu ‘Anhu then became the Murīd of the great Khwaja Radi Allāhu ‘Anhu and remained With him throughout his travels. Certainly, there was no better Murīd of Khwaja Gharīb Nawāz Radi Allāhu ‘Anhu than Khwaja Qutbudīn Bakhtiyār Kākī Radi Allāhu ‘Anhu who could share his secrets. Obviously, there was no better Murshid than the great Khwaja Gharīb Nawāz Radi Allāhu ‘Anhu from whom he could attain the pinnacle of perfection in the spiritual world. Both complimented one another.

[Akhbār al-Akhyār Fii Ahwālil Abrār]

Source: Facebook.com