یومِ عاشورہ کے اعمال

یومِ عاشورہ کے اعمال

یومِ عاشورہ کے اعمال
از: محمد انصار احمد نوریؔ القادری ،رکن امام احمدرضامومنٹ علماء بورڈ و امام مسجد الحسینیہ ،ڈی جے ہلی بنگلور
عاشورہ کے دن روزہ رکھنا سنت ہے۔ اور بہت فضیلت رکھتا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ جب تشریف لے گئے تو یہودیوں کو دیکھا کہ وہ عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہیں آپ ﷺ نے ان سے فرمایا یہ کیسا دن ہے کہ جس میں تم روزہ رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا یہ وہ عظمت والا دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو نجات دی اور فرعون کو اس کی قوم کے ساتھ ڈبو یا۔ تو موسیٰ علیہ السلام نے اس کے شکر یہ میں روزہ رکھا ۔ہم بھی رکھتے ہیں۔ تو رسول اکر ﷺ نے فرمایا موسیٰ علیہ السلام کے تم سے زیادہ حق دار ہیں۔ تو عاشورہ کا روزہ رسول اکرم ﷺ نے بھی رکھا اور اس روزہ کا حکم بھی فرمایا ۔(بخاری ۲۶۸ جلد ا ، مسلم صفحہ ۳۵۹ جلد ۱)
اور حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ عاشورہ کے روزہ کو پچھلے سال بھر کے گناہ کا کفارہ بنا دے ( مسلم ۔مشکوٰۃ صفحہ ۱۷۹)حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی کہ جب رسول اکرم ﷺ نے عاشورہ کے دن روزہ رکھا اور روزہ رکھنے کا حکم فرمایا تو صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! یہ وہ دن ہے کہ جس کی یہود اور عیسائی تعظیم کرتے ہیں تو رسول اکرم ﷺ نے فرمایا اگر میں سال آئیندہ دنیا میں باقی رہا تو نویں محرم کا بھی روزہ رکھونگا (مشکوٰۃ صفحہ ۱۷۹) اسی لئے فقہائے کرام فرماتے ہیں سنت یہ ہے کہ محرم کی نویں تاریخ ، اور دسویں تاریخ کو روزہ رکھے۔اور سرکار اقدس ﷺ ارشاد فرماتے ہیں جو شخص عاشورہ کے دن چار رکعتیں اس طرح پڑھتے کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد قُلْ ھُوَ اللّٰہ اَحَدپوری سورہ گیارہ مرتبہ پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کے پچاس برس کے گناہ معاف فردے گا اور اس کے لئے نور کا منبر بنائے گا(نزہۃالمجالس۱۸۱ جلد ۱)
حضرت شیخ عبد الرحمٰن صفوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ مصر میں ایک شخص رہتا تھا جس کے پاس صرف ایک کپڑا تھا جو اس کے بدن پر تھا اس نے عاشورے کے دن حضرت عمر بن العاصؓ کی مسجد میں فجر کی نماز پڑھی ۔ وہاں کا دستور یہ تھا کہ عورتیں عاشورہ کے دن اس مسجد میں دعا مانگنے کے لئے جایا کرتی تھیں ایک عورت نے اس شخص سے کہا اللہ کے نام مجھے کچھ میرے بال بچوں کے لئے دیجئے ۔ اس شخص نے کہا اچھا میرے ساتھ چلو ۔ گھر پہونچ کر اس نے بدن سے اپنے کپڑا اتار ا اور دروازے کی درار سے اس عورت کو دے دیا عو رت نے اس کو دعا دی خدا تعالیٰ تمہیں جنت کا حلّے پہنائے گا۔
مجالسِ محرم کے فوائد:۔
مجالس محر م سے کئی فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ اول یہ کہ حدیث شریف میں ہے صالحین کے ذکر کے وقت رحمت الٰہی کا نزول ہوتا ہے اور خلفائے راشدین و امامین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی سنت ہے ماہ محرم کے پہلے دہا نے کے (پہلے دس دنوں میں )محفل منعقد کر نا اور واقعات کربلا پیش کرنا جائز ہے جب کہ صحیح واقعات بیان کئے جائیں کیونکہ ان واقعات میں صبر تحمل اور رضا و تسلیم کا ایک مکمل درس ہے اور پابندی احکام شریعت اور اتباع سنت کا زبر دست عملی ثبوت ہے کہ امام حسین رضی اللہ عنہ نے دین حق کی حفاظت میں تمام عزیزوں اور قریبوں اور رفیقوں اور خود اپنے کو خدا کی راہ میں قربان کیا اور جزع و فزع کا نام تک بھی نہیں لیا ۔ مگر اس مجلس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بھی ذکر خیر ہونا چاہئے تا کہ اہل سنت اور شیعوں میں فرق ہو جائے۔قرآن خوانی،فاتحہ خوانی ،سبیل،محافل ،شہداء کربلاوغیرہ کا اہتمام کریں۔

واقعۂ کربلا: اسلام کے لیے فکروعمل کی جولانی چاہتا ہے حسینیت پیام صبح ہے ’’ غازہ روئے سحر شامِ غریباں ہوجائے

واقعۂ کربلا: اسلام کے لیے فکروعمل کی جولانی چاہتا ہے
حسینیت پیام صبح ہے ’’ غازہ روئے سحر شامِ غریباں ہوجائے‘‘
غلام مصطفی رضوی؛ نوری مشن مالیگاؤں وامام احمدرضا مومنٹ بورڈ ممبر، بنگلور

تاریخِ انسانی میں اہم واقعات کی یاد تازہ کی جاتی ہے۔ انھیں اگلی نسلوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ یادوں کے سہارے مستقبل کی تعمیر کی جاتی ہے۔ انھیں گلشنِ حیات میں ترو تازہ رکھنے کے لیے نسلاً بعد نسلٍ منتقل کیا جاتا ہے۔ وہ کیسی یادیں ہیں جو اَن مٹ بن جاتی ہیں؟ وہ کیسے واقعات ہیں جنھیں نہ تاریخ فراموش کرسکی؛ نہ مذہبی اقدار نے بھُلایا!ان کی حسی اہمیت اور دینی افادیت کو گردشِ دوراں بے نشاں نہ سکی۔واقعۂ کربلا ایسا ہی ہے۔ ہر عہد میں اس سے ملنے والے پیغام کی افادیت رہی ہے۔ ہر دور میں یہ درسِ عمل رہا ہے۔

امتحان ایک فطری ضرورت: حکمتِ الٰہیہ رہی ہے کہ منصبِ بلند کے حامل بڑے امتحانات سے گزرے۔ دورِ ابتلا وآزمائش میں ثابت قدمی وقار کی بلندی کا سبب ہوئی۔ یہی کچھ نواسۂ رسول؛ امام حسین وان کے رفقا کے ساتھ ہوا۔ ان کا امتحان اسلام کی حیاتِ تازہ کا باعث بنا۔ امتحان وآزمائش کی منازل سے سلامت گزرنے والوں نے ریگ زارِ کربلا میں جو تاریخ لکھی وہ اسلام کا نقشِ جمیل بن گئی۔نقوشِ ریگ لمحاتی ہوتے ہیں، دھیرے دھیرے معدوم ہو جاتے ہیں۔ لیکن کربلا کا نقش ایسا نمایاں ہے کہ گردشِ ایام و حوادثِ روزگار دُھندلا نہ سکے۔

خیالات کی بے راہ روی: مانی ہوئی بات ہے کہ زمانی حالات انسان کو مرعوب کر دیتے ہیں۔ آج جو فیصلے لیے جاتے ہیں ضروری نہیں کہ کل اسی کو قبول کیا جائے۔ فکر وخیالات میں نشیب وفراز آتے رہتے ہیں۔ ہوا و ہوس جب غالب آ جائے تو خیالات کی زمیں بنجر ہونا بعید نہیں۔یہی کچھ یزید کی بے راہ روی کا سبب بنا۔ یزید کے سامنے دو نظام تھے: [۱]اسلامی ماڈل [۲]آمرانہ ماڈل۔۔۔ اسلامی ماڈل نظامِ قدرت کی پابندیوں سے آراستہ تھا، جس میں حقوق کی سلامتی یقینی اور خدائی قوانین کی اطاعت لازمی تھی۔ نشۂ اقتدار و بے راہ روی کے بطن سے نکلی سوچ اسلامی ماڈل کے قبول میں مانع رہی۔فرماں روائی کے سپنے ایسے بسے کہ آمرانہ ماڈل قبول کیا گیا۔ آمریت کی فکر قیصر وکسریٰ کے ظالمانہ طرزِ حکومت سے ملی تھی، اس بے راہ روی نے عقل وسوچ پر پردہ ڈال دیا۔ حق کی راہ بے جا خواہشات کی تکمیل میں رُکاوٹ تھی۔ پھر یہ کہ حسین اعظم سے دعویِ محبت اور دوسری طرف صحابہ کی مقدس جماعت سے بغض، افسوس یہ یہودی فکر کے شکار ہیں بقولِ رضاؔ ؂

یہودوں کی سیرت مجوسوں کی صورت
قصیر المحاسن طویل الشوارب
علی سے محبت، عمر سے عداوت
کہیں بھی ہوئے جمع نور و غواہب

شریعت پر استقامت:اسلامی قوانین حتمی ہیں۔ سائنسی کلیات بدلتے رہتے ہیں۔ عقلی نظریات میں تغیرات کا وقوع باعثِ تعجب نہیں۔ اسلام کے دینِ کامل ہونے کا واضح ثبوت اس کے قوانین کا تبدیلی سے مبرّا ہونا ہے۔یزید کے خلافِ شریعت محرکات کے سدِ باب کے لیے امام حسین و ان کے رفقاکی شہادت یقینی طور پر شریعتِ اسلامی کے لیے ’’دین پناہ‘‘ اور ’’رول ماڈل‘‘ ہے، جس سے شریعت پر کسی بھی دور میں ہونے والے حملوں کے تدارک میں واقعۂ کربلا درسِ عمل ہے، دینی اصولوں کی پاس داری کے لیے استقامت کا پیام ہے۔

استبداد کے خلاف عزم ویقیں: واقعاتِ کربلا نے ہر دور میں ظلم کے مقابل مظلوم کی حمایت کی ہے۔ ان سے جاں فروشی و قربانی کا عزمِ تازہ و حوصلۂ نو ملتا ہے۔واقعۂ کربلا یقینِ کامل کے ہزاروں چراغ طاقِ دل پر روشن کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ یزیدیت کی صدیوں محنت کے بعد بھی حسینی سوچ وفکر ہی کامیاب ہے، اور شریعت کے اصولوں پر گامزن بھی۔ جب کہ تمام وہ اصول وپیمانے جو مفاد و مصلحت کے سانچے میں ڈھل کر سامنے آئے ان کا آخری نتیجہ زوال ہے۔ بڑی مملکتوں کا انجام دُنیا نے دیکھا ہے۔ آج جو سُپر پاورز ہیں کل انھیں زوال سے دوچار ہونا پڑ سکتا ہے۔ نظریاتی تخریب کاری کے تمام ساماں، مادی تعیش کے تمام ذرائع اور جوروستم کے تمام حربے شہادتِ حسینی کے عزم ویقیں سے پُر درسِ عمل کے مقابل بالآخر ناکام ہوں گے ۔ استبداد کی کوکھ سے اُبھرنے والا نظام ممکن العمل نہیں ہے۔ وہی نظام لایقِ عمل ہے جس میں حفظِ شریعت اور افکارِ اسلامی کی بقا وسا لمیت ملحوظ ہو۔
مصالحت یا حق پسندی: امام حسین کا یزید کی اطاعت سے انکار مضبوط بنیادوں پر تھا۔ یزید کی حمایت ظلم کی تائید تھی۔ یزید کی تائید خلافِ شریعت معاملات میں یزیدی فکر کے لیے عزم وحوصلہ کا سبب بنتی۔ مانی ہوئی بات ہے کہ امام حسین نے یزید کی مخالفت سے حق پسندی کا اصولی ضابطہ دُنیا کو عطا کیا۔ شریعت کے مقابل اُٹھنے والے تمام اقدامات کی حوصل شکنی کی۔یہی اصل فائدہ ہے تعلیماتِ حسینی پر عمل کا۔

دعویٰ دلیل چاہتا ہے: یزیدی عمل سے نفرت کے اظہار کے لیے حسینی ماڈل اپناناہر دور کی ضرورت ہے۔ شریعت کے قوانین کی بالادستی جب تک رہی؛ یزیدیت خائف وپریشاں رہی۔ حسینی بننا ہے تو حق کی عادت ڈالو۔ حسینیت نام ہے صدقِ ایفائے عہد کا۔ حسینیت نام ہے غیر شرعی نظام کے مقابل حفظِ شریعت کا۔ آج یزیدی افعال واعمال کو جواز کی پوشاک پہنائی جارہی ہے۔ زمانی تقاضے کے نام پر مسلمہ مسائلِ اسلامی میں الحاق کی جراء ت یقیناًیزیدی فکر و خیال کی تائید ہے، اس کا مرتکب لاکھ حسینی کہلوائے حقیقتاً وہ نفس وطبیعت کا غلام ہے۔ شہرت و طمع و لالچ میں یزیدیت کو عملی شکلوں میں اپنانے کی مہم خطرناک ہے۔ اس پر قدغن لگانا چاہیے۔ بہر کیف! حسینی مشن پر استقامت ودوام ضروری ہے اور ساتھ ہی تقاضاے محبت وعقیدت یہ ہے کہ شرعی معاملات میں اسلامی اصولوں کو ترجیح دیں اور یہی ہمارے لیے ممکن العمل بھی ہے اور دعویِ محبت کا ثبوت بھی۔

احکام خداوندی کی تعمیل: حسین اعظم رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقا نے اطاعتِ خداوندی و فرامینِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل آوری کا عملی نمونہ دُنیا کے رُو برو پیش کیا۔ نماز دونوں طرف تھی، ایک سمت رسماً تھی دوسری سمت مکمل اطاعت کے ساتھ تھی۔ اہلِ وفا کی نماز ’’نمازِ عشق ادا ہوتی ہے تلواروں کے سائے میں‘‘ کا مظہر تھی۔ دوسری طرف بے روح نماز تھی جس میں نماز کا حکم فرمانے والا آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی آلِ پاک سے نفرت تھی۔کربلا کا میداں نمازِ حسینی سے احکامِ خداوندی کی تعمیل کا نظارہ پیش کرتا ہے۔ درسِ عمل ہے کہ حاملانِ محبتِ حسینی ہر حال میں نمازوں کے پابند رہیں۔
حقوق کی پاس داری: حقوق کی پامالی سے ہی دہشت گردی کا جنم ہوتا ہے۔ جس کا جو حق ہے وہ ادا کرنا اسلامی اطاعت شعاری کا نمایاں پہلو ہے۔ آج حقوق کی پامالی عام سی بات ہو گئی ہے، اقارب کی حق تلفی، اعزا کی حق تلفی، درس گاہوں میں طلبا کی حق تلفی، ورثا کی حق تلفی، مال ودولت کی طمع نے بھائی بہنوں میں حق تلفی کو رواج دیا،آج ہم حقوق کی ادائیگی میں چشم پوشی کرتے ہیں۔ حسین اعظم سے محبت کا تقاضا حقوق کی ادائیگی ہے، شریعتِ اسلامی کے حقوق کے تحفظ کی خاطر عظیم نواسے نے دینِ مصطفوی کو بچایا اور ہم شریعتِ مطہرہ کے مقرر کردہ حقوق سے کوتاہی کرتے ہیں! افسوس! کوتاہی ہماری اور پھر یہ شکوہ کہ مال میں برکت و خیر نہیں، رزق میں فراوانی نہیں، پریشاں حالی ہے، کاروبار زوال پذیر ہے۔ اسباب کے تدارک کے بجائے مفلوک الحالی

کا رونا رونا دانش مندی نہیں۔ اب بھی وقت موجود ہے۔ جس کا جو حق ہے اسے ادا کیجیے۔ فکروخیال کا قبلہ درست کیجیے۔ محبتوں کے تقاضے سمجھیے۔ نفرتوں کے غبار سے نکلیے۔ محبتوں کے شناور بن جائیے۔ دل بڑا کیجیے۔ روٹھوں کو منائیے۔ تعلیماتِ حسین اعظم کے علم بردار بن کر بڑھیے۔ یزیدی ظلم کے مقابل مظلوموں کے سچے ہم درد بنیے۔ حق تلفی کے مقابل اخلاقِ صالح کی تلوار بن جائیے۔ یاد رکھیے! تعلیماتِ حسینِ اعظم کے حامل کیکر، تھوہڑ اور ببول کی کاشت نہیں کرتے؛ بلکہ گل ولالہ اور سوسن ویاسمن بویا کرتے ہیں جس سے گلستانِ حیات مہک مہک اُٹھتا ہے۔ آپ بھی خوش بوؤں کی بادِ صبا بن جائیے جس سے گلشنِ حیات مہک اُٹھے گا اور تعلیماتِ حسینی سے انسانیت کی فصل ہری بھری ہوجائے گی۔ ؂
یہ طوطی کے نغمے عنادل کے لہجے
نہیں نعرۂ ضیغمی کے مناسب
***

Hussain is From Me And I am From Hussain

Hussain is From Me And I am From Hussain

Hadith: PROPHET MUHAMMAD SALLALAAHU ALAIHI WASALLAM SAID: “HUSSAIN IS FROM ME, AND  I AM FROM HUSSAIN.  ALLAH LOVES WHOSOEVER  LOVES HUSSAIN…” [Jami Tirmidhi]hussain_is-_from_me_iam_from_hussain_razamovement_iarm

What is the virtue of Reading Soorat al-Kahf on Friday?

What is the virtue of  Reading Soorat al-Kahf on Friday?

The Virtue of Reading Soorat al-Kahf on Friday

“Whoever reads Soorat al-Kahf on the day of Jumu’ah, will have a light that will shine from him from one Friday to the next.”

[Narrated by al-Haakim, 2/399]

Soorat al-Kahf

Gems of Wisdom by Qutb-e-Madinah Shaykh Ziauddin Madani (Alayhir Rahmah)

Gems of Wisdom by Qutb-e-Madinah Shaykh Ziauddin Madani (Alayhir Rahmah)

.:: Golden Words of Wisdom ::..
by Qutb-e-Madinah Shaykh Diya al-Deen Ahmad
Siddiqui al-Qadiri Ridawi al-Madani (Alayhir Rahmah)

 

  • Always be steadfast on the sacred Shari’ah. The greater one is obedient to the Shari’ah the higher one attains status in Tariqah.
  • Do work for the Religion for the sake of the Religion and do not do it for name and fame.
  • Engage in feeding food even though it is basic Dhaal and rice. There is great virtues and Barakaat in feeding.
  • Become a Veiler [Sat’taar – one who hides the faults of others]. Hide the faults of the Muslim, may they be religious or worldly.
  • Duniya is an evil thing. He who is tangled with it keeps on sinking into it. He who runs away from it , it remains at ones feet.
  • Salah and Fasts are from the essentials, but real religion is rectifying ones transactions.
  • Here [in Madina al-Munawwarah] the wise and elders say; ‘Constant performance of Salaah becomes a habit, by keeping Fasts, the cost of one meal is saved and religion is the name of rectification of dealings.
  • First Salaam , second feed food and third talk. When someone visits you, first greet him then feed him and lastly ask him the reason of his visit.
  • The Murshid who is dependent on the Murid, in my view, is not a Murshid.
  • To become a Murshid is very difficult and to be a son of a Murshid is very simple. Allah SubHanuhu wa Ta’ala save us from becoming Sahibzadahs.
  • In obedience there is virtue and in innovation [Bid’ah] there is destruction. Be a follower and you will attain salvation.
  • In secrecy is salvation and fame breeds discord.
  • Allah SubHanuhu wa Ta’ala has given the cursed devil great powers. It is only Allah’s (SubHanuhu wa Ta’ala) Mercy that can protect one from the evil of the devil.
  • The Spiritual Silsilah is only one that is the Qadiriyyah. The rest are its tributaries.
  • There is no harm in eating the bread of a miser. But one must abstain from eating anything from a Man’nan . May Allah SubHanuhu wa Ta’ala protect us from the favours of a Man’nan.
  • There is no goodness in the sand of Najd, it has nothing but pure evil.
  • Do not give anyone a loan more than your financial capacity and don’t reveal the loan to anyone nor demand its repayment. If the creditor returns the loan regard it as a fresh sustenance from Allah SubHanuhu wa Ta’ala.
  • Doing good deeds is a Toufeeq from Allah SubHanuhu wa Ta’ala and a sign of acceptance. Guidance is certainly from Allah SubHanuhu wa Ta’ala but a servant has to make efforts in doing good deeds.
  • A fortunate person is he whose letter is read in the sacred city of Madina al-Munawwarah or he is discussed with goodness there or his name is mentioned there.
  • Continue extolling the sacred name of ‘Ya Ghawth Ya Ghawth’. There are blessings of this sacred name in both the worlds.
  • Never recite the Darud Sharif with the intention of Ziyaarah. The beloved Habib SallAllaho Alaihi wa Aalihi wa Sallam is not restricted to any human. If He (SallAllaho Alaihi wa Sallam) blesses anyone then it is His favour.
  • No greed, no rejection and no hoarding are virtue.
  • Wafa is either you bury your companion or he buries you in the ground.
  • Safeguard yourself from severe cold as it takes its grudge in old age.
  • Wealth is madness and seek Allah’s (SubHanuhu wa Ta’ala) protection from it as it take a long time to regain consciousness from it.
  • Fulfilling lust is a deadly companion and an evil habit. It is a lethal enemy.
  • Pride and boastfulness destroys the intellect.
  • Avoid relationship with your opposite specie.
  • Don’t ask Allah SubHanuhu wa Ta’ala for abundance, If you have reliance then there is great abundance of Barkat in little sustenance.
  • Knowledge is achieved by seeking it; sitting in the company of the knowledgeable and also by Divine Inspiration.
  • Your Murshid is he on whose hands you have initially taken Bay’ah. Regarding Faydh , take it wherever you find it.
  • Always keep far from dissention and disunity.
  • Goodness is in being kind to the creation of Allah SubHanuhu wa Ta’ala.
  • One must give charity according to the ones means and ability.
  • Never behave with severity and harshness as there is no goodness in it.
  • If anyone sits in Madina al-Munawwarah with justice and patience, then sustenance comes to him from all directions.
  • If anyone is caught in the net of a Najdi , he sinks to the depths of the ocean . If he is saved from this then regard it as a gift of a new life.
  • A poor man is a blessing and not a burden.
  • To educate an evil and incompetent person is to put the Ummah in discord.
  • Exercising patience in hardship and misfortune is the key to success.
  • Accept the excuse or apology of your enemy.
  • Do not regard your enemy weak and sickness as insignificant.
  • Spiritual culture is not to hurt the feelings of anyone.
  • Four things are disastrous to a human;
    1) To eat food when not hungry.
    2) To habitually take medication
    3) To have excessive sex
    4) To dig for the faults of others.
  • Write letters as paper horses are good.
  • He who is kind to creation is in reality engaged in the Love of the Creator (SubHanuhu wa Ta’ala).
  • People have attained everlasting wealth in Adab and enthusiasm.
  • Do not behave like a mad man in search of sustenance because whatever is destined for you, you will certainly receive.
  • Secret charity stops the wrath of Allah SubHanuhu wa Ta’ala.
  • He who desires the goodwill of creation with good conduct has brightened his face.
  • He who has good supposition lives a peaceful life.
  • An intelligent person never leaves four things; patience, thankfulness, peace and solitude.
— — —
Translated by an insignificant mendicant of the illustrious Qutb
Khadim al-Ilm al-Sharif Faqeer Abdul Hadi al-Qadiri Ridawi
Imam Ahmad Raza Academy, Durban – South Africa
Youm al-‘Arafa 9th Dhu al-Hijjat al-Haram 1432H

Islamic New Year 1438AH

Islamic New Year 1438AH

Assalamu Alaikum to All our Brethren.

Imam Ahmed Raza Movement wishes Everyone a very happy Islamic New Year 1438AH

Islamic New Year

Imam Ahmed Raza Movement’s interview on NDTV

Imam Ahmed Raza Movement’s interview on NDTV

Imam Ahmed Raza Movement’s interview on NDTV’s a special investigative broadcast presented by journalist Sreenivasan Jain on a show named Truth vs Hype Shadow of Salafism in India


Imam Ahmed Raza Movement: team statements also covered on Wahabi ideology

 

IARM team Attended:
Syed Zabiulla
Mufti Shakil Noori
Advocate Mohammed
Syed Sadiq Irshad

Source: NDTV: Truth vs Hype
follow us on
Twitter: https://twitter.com/razamovement
Facebook : https://www.facebook.com/razamovement
Youtube: https://www.youtube.com/user/TheRazaMovement
Instagram: https://www.instagram.com/razamovement/

شھادت حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

شھادت حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ
قاری محمد انصار احمد نوری ، ممبر امام احمد رضا مومنٹ علماء بورڈ، بنگلور

نام و نسب: آپؓ کا نام’’ عثمان‘‘ کنیت ابو عمر اور ذوالنورین ہے، پانچویں پشت میں آپکا سلسلہ نسب رسول اللہ ﷺ کے شجرۂ نسب سے مل جاتا ہے ۔ آپ کی نانی ام حکیم جو حضرت عبد المطلب کی بیٹی تھیں وہ حضور ﷺ کے والد گرامی حضرت عبد اللہؓ کے ساتھ ایک ہی پیٹ سے پیدا ہوئی تھیں۔ اس رشتہ سے حضرت عثمان غنیؓ کی والدہ حضور ﷺ کی پھوپھی کی بیٹی تھیں ۔ آپ کی پیدائش عام الفیل کے چھ سال بعد ہوئی۔
ْؓقبول اسلام: حضرت عثمان غنیؓ ان حضرات میں سے ہیں جن کو حضرت ابو بکر صدیقؓ نے اسلام کی دعوت دی تھی۔ آپ قدیم الاسلام ہیں یعنی ابتدائے اسلام ہی میں ایمان لے آئے تھے آپ نے حضرت ابو بکرؓ ،حضرت علی، اور حضرت زید، کے بعد اسلام قبول کیا۔جب حضرت عثمان غنیؓ حلقۂ بگوش اسلام ہوئے تو ان کا پورا خاندان بھڑک اٹھا یہاں تک کہ آپ کا چچا حکم بن ابی العاص اس قدر برہم ہوا کہ آپ کو پکڑ کر ایک رسی سے دیا اور کہا کہ اگر تم نے اپنے باپ دادا کا دین چھوڑ کر ایک دوسرانیا مذہب اختیار کر لیا ہے۔ جب تک کہ تم اس نئے مذہب کو نہیں چھوڑو گے ہم تمہیں نہیں چھوڑیں گے اسی طرح باندھ کر رکھیں گے۔آپ نے فرمایا : میرے جسم کے ٹکڑے تکڑے کر ڈالو یہ مجھے منظور ہے مگر دل سے دین اسلام نکل جائے یہ مجھے منظور نہیں۔اس طرح آپکا استقلال دیکھا تو مجبور ہو کر آپ کو رہا کر دیا۔
شہادت کی خبر:حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت ہے کہ ایک روز نبی کریم ﷺ ،حضرت صدیق اکبر،عمر فاروق، عثمان غنی رضی اللہ عنہم احد پہاڑ پر تھے، یکا یک وہ ہلنے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :اے احد!تو ٹھہر جا کہ تیرے اوپر صرف ایک رسول، یاصدیق،اور دو
شہید ہیں (تفسیر معالم التنزیل ص ۲۱۶) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ پہاڑوں پر بھی اپنا حکم نافذ فرماتے تھے۔ اور یہ بھی ثابت ہوا کہ خدائے تعالیٰ نے آپ کو علم غیب عطا فرمایا تھا کہ برسوں پہلے حضرت عمرؓ اور عثمان غنیؓ کے شہید ہونے کے بارے میں حضور ﷺ خبر دے رہے ہیں ۔ اعلیحضرت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
اور کوئی غیب کیا تم سے نہا ں ہو بھلا ۔ جب نہ خدائی چھپا تم پہ کروروں درود
اور حضرت عثمان غنیؓ خوب جانتے تھے کہ حضور ﷺ کا فرمان بدل نہیں سکتا ہے اسی لئے آپؓ اپنی شہادت کا انتظار فرما رہے تھے۔حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے مستقبل میں ہونے والے فتنہ کا ذکر کیا تو ارشاد فرمایا کہ یہ شخص فتنہ میں ظلم سے قتل کیا جائے گا ۔ یہ کہتے ہوئے آپ نے حضرت عثمان غنیؓ کی طرف اشارہ فرمایا:
حضرت عثمان غنیؓ اور احادیث:
حضرت عثمان غنی کے فضائل میں بہت سی حدیثیں بھی وارد ہیں۔ چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ایک روز حضرت عثمان غنیؓ سے فرمایا کہ اے عثمان! خدائے تعالیٰ تجھ کو ایک قمیص پہنائے گا یعنی خلعت خلافت سے سرفراز فرمائے گا۔ پھر اگر لوگ اس قمیص کے اتارنے کا تجھ سے مطالبہ کریں تو ان کی خواہش پر اس قمیص کو مت اتارنا یعنی خلافت کو نہ چھوڑنا۔ اسی لئے جس روز ان کو شہید کیا گیا۔ انہوں نے حضرت ابو سہلہؓ سے فرمایا کہ حضور ﷺ نے مجھ کو خلافت کے بارے میں وصیت فرمائی تھی۔ اسی لئے میں اس وصیت پر قائم ہوں اور جو کچھ مجھ پر بیت رہی ہے اس پر صبر کر رہاہوں ۔(ترمذی)
آپ کی خلافت:
حضرت علامہ جلال الدین سیوطیؓ اپنی مشہور کتاب تاریخ الخلفا میں فرماتے ہیں کہ زخمی ہونے کے بعد حضرت عمر فاروقؓ کی طبیعت جب زیادہ ناساز ہوئی تو لوگوں نے آپ سے عرض کیا کہ یا امیر المومنین آپ ہمیں کچھ وصیتیں فرمائیے اور خلافت کے لئے کسی کا انتخاب فر ما دیجئے۔ تو آپ نے فرمایا علاوہ ان چھ اصحاب کہ جن سے رسول اکرم ﷺ راضی اور خوش ہو کر اس دنیا سے تشریف لے گئے میں کسی اور کو مستحق نہیں سمجھتا ہوں۔پھر آپ نے حضرت عثمان،علی،طلحہ،زبیر،عبد الرحمن ،سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے نام لئے ۔جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا وصال ہوگیا، لوگ ان تجہیز و تکفین سے فارغ ہو گئے تو تین دن کے بعد خلیفہ کو منتخب کرنے کے لئے جمع ہوئے۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے فرمایا کہ پہلے تین آدمی اپنا حق تین آدمیوں کو دے کر دست بردار ہو جائیں ، لوگوں نے اس بات کی تائید کی تو حضرت زبیرحضرت علی کو ، حضرت سعد بن وقاص حضرت عبد الرحمن کو، اور حضرت طلحہ حضرت عثمان کو اپنا حق دے کر دست بردار ہو گئے۔حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا انتخاب کا کام میرے سپرد کردیں۔ قسم خدا کی میں آپ لوگوں میں سے بہتر اور افضل شخص کا انتخاب کروں گا۔آپ نے حضرت علی و حضرت عثمان غنی سے عہد و پیمان لیا اس کے بعد آپ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور ان کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی بیعت کر لی، اس کے بعد تمام مہاجرین و انصار نے
۔حضرت عبد الر حمن بن عوف نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بجائے حضرت عثمان کو اس لئے خلیفہ منتخب کیا کہ جو بھی صائب الرائے تنہائی میں ان سے ملتا وہ یہی مشورہ دیتے کہ خلا فت حضرت عثمان کو ہی ملنی چاہئے وہ اس کے زیادہ مستحق ہیں۔

آپ کی شہادت:

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا دور خلافت کل بارہ سال رہا۔ شروع کے چھ برسوں میں لوگوں کو آپ سے کوئی شکایت نہیں ہوئی بلکہ ان بر سوں میں وہ حضرت عمررضی اللہ عنہ سے بھی زیادہ لوگوں میں مقبول رہے اس لئے کہ حضرت عمرؓ کے مزاج میں کچھ سختی تھی اور آپ میں کوئی سختی کا وجود نہ تھاآپؓ بہت با مروت تھے۔آخری چھ برسوں میں بعض گورنروں کے سبب لوگوں کو آپ سے شکایت ہو گئی۔

The Pilgrimage Hajj – Tawaf and Its Method

The Pilgrimage Hajj – Tawaf and Its Method

Each Tawaaf Consists of seven Circumambulations around the Ka’aba The Method to be followed in Tawaaf is as follows:

After Making the Niyyat for Tawaaf, Come in front of Hajar-e-Aswad and Kiss it and of it is not possible to kiss it then point towards it and kiss the palms. Then raising your hands up to your ears recite this takbeer:

Tawaf

BIS-MIL-LAA-HI AL-LAA-HU AK-BAR WA LIL-LAA-HIL-HAMD.

In the name of Allah, Allah is the Most Great and Unto Allah Praise.

As you finish reciting, drop your hands and start moving for the first circumambulation. Each circumambulation starts from Hajar-e-Aswad and for each of these there is a special prayer, which should end at Rukn Yamaani ( you may be able to recite the prayer two or three times before your reach Rukn Yamaani). As you start from Rukn Yamaani towards Hajar-e-Aswad to start the next circumambulation, keep reciting the following Du’aa till your reach Hajar-e-Aswad:

RAB-BA-NAA AA-TI-NAA FID-DUN-YAA HA-SA-NA-TANW WA FIL-AA-KHI-RA-TI HA-SA-NA-TANW WA QI-NAA A-ZAA-BAN-NAAR WA AD-KHIL-NAL-JAN-NA-TA MA-AL-AB-RAAR YAA A-ZEE-ZU YAA GAF-FAA-RU YAA RAB-BAL AA-LA-MEEN

O’my Lord Allah! Bless us in the world that which is good and in the Hereafter that which is good and save us from the torment of Fire and enter us in Paradise with the pious. O Mighty O Forgiver O Lord of the Universe.

Hajj – Dua of the first circumambulation

Hajj – Dua of the second circumambulation

Hajj – Dua of the third circumambulation

Hajj – Dua of the fourth circumambulation

Hajj – Dua of the fifth circumambulation

Hajj – Dua of the sixth circumambulation

Hajj – Dua of the seventh circumambulation

Unique Merits Of The Masjid Of Allah’s Messenger’s (Sallallahu Alaihi Wa Sallam)

Unique Merits Of The Masjid Of Allah’s Messenger’s (Sallallahu Alaihi Wa Sallam)

The unique merit of the Masjid of Allah’s Messenger (Sallallahu Alaihi Wa Sallam) lies in the fact that he rendered personal help in its construction, led prayers in it for years and called it his own Masjid. He has said, “A prayer offered in ‘my Masjid’ carries a thousand fold greater rewards than a prayer offered elsewhere, except in Masjid-e-Haram (the Masjid around the Ka’aba).

masjid

According to Hazrat Anas (Radiyaliahu Anhu), Allah’s Messenger (Sallallahu Alaihi Wa Sallam) said, “The person who offers 40 prayers consecutively in my Masjid without missing a prayer in between, will secure immunity from the Fire of Hell and other torments and also from hypocrisy.” (Musnad-e-Ahmed)

Again he has said, “The space between my living quarters and my pulpit consists of a garden from the Gardens of Parasdise, and my pulpit is situated at the fountain of Al-Kausar (in Paradise).” (Muslim Sharif, Bukhari Sharif)

While entering Masjid-e-Nabvi, think of the great opportunity, repent for the sins and decide to lead life on the foot steps of Allah’s Messenger (Sallallahu Alaihi Wa Sallam). Walk slowly and humbly. Enter the Haram Sharif from Babe-Jibreel Bab-as-Salaam. Step right foot in first and recite:

BIS-MIL-LAA-HI WAS-SA-LAA-TU WAS-SA-LAA-MU A-LAA RA-SOO-LIL-LAA-HI AL-LAA-HUM-MAG-FIR-LEE ZU-NOO-BEE WAF-TAH-LEE AB-WAA-BA RAH-MA-TI-KA WAD-KHIL-NEE FEE-HAA YAA AR-HA-MAR-RAA-HI-MEEN

In the name of Allah Peace and Blessing upon Messenger of Allah O my Lord Allah forgive my sins and open for me the doors of Thy Mercy and get me entered there in, O the Most Merciful of the Merciful.

Offer two raka’at of Tahayyatul Masjid in Riyazul-Jannah [Allah’s Messenger (Sallalahu Alaihi Wasallam) has called this place a piece of Paradise], the place between the niche and the house of Allah’s Messenger (Sallalahu Alaihi Wasallam).

Now come the Mawajeh Sharif, a placewhere you stand face to face with Allah’s Messenger (Sallalahu Alahi Wasallam). Think of your sinful life and Allah’s favour to you to call you to Madina Munawwara fo which millions of people desire, and say:

O our beloved guide, Allah’s Peace and Blessings be upon you, we have committedsins. We have turned towards you. Pray to Allah in our favour for our betterment in this world and Hereafter. May Allah grant us your intercession on the Day of Resurrection, Aameen.

Stand humbly in front of Mawajeh Sharif neither too close nor too far. Cast your eyes down and recite Darood Sharif and Salaam seventy times in a slow, respectful, soft voice.

After offering Salaam to Allah’s Messenger (Sallalahu Alaihi Wasallam), move a meter to the right and offer Salaam on Hazrat Abu Bakr Siddiq (Radi Allahu Anhu), the first Caliph, who lies asleep next to Allah’s Messenger (Sallalahu Alaihi Wasallam).

Then move a meter more to the right and offer Salaam on Hazrat Umar (Radi Allahu Anhu), the second Caliph.